تب قائداعظم نے قبائلی عوام کو کشمیر میں جہاد کی ترغیب دی جسکے نتیجے میں ہم آدھا کشمیر واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔

0
135
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“سب جرنیلوں کا کیا دھرا ہے “

یہ کہنا ایک فیشن بن چکا ہے اور نام نہاد جمہوری لیڈروں اور مغربی مفادات کے نگران ایک مخصوص ٹولے کا یہ پسندیدہ نعرہ ہے جن کو آپ میڈیا میں باآسانی پہچان سکتے ہیں۔۔۔۔ اور ایک بڑی سیاسی جماعت تو اپنی تمام تر نالائقیوں کو چھپانے کے لیے اس نعرے کو بطور ڈھال استعمال کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

کچھ دلچسپ حقائق کا جائزہ لیتے ہیں

سب سے پہلے مجاہدین کو قائداعظم نے اس وقت استعمال کیا جب پاک فوج کے انگریز چیف آف سٹاف نے اسکا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا تب قائداعظم نے قبائلی عوام کو کشمیر میں جہاد کی ترغیب دی جسکے نتیجے میں ہم آدھا کشمیر واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔۔۔۔۔۔
یہ ایک جرنیل کا حکم نہیں تھا اور اس وقت کے حساب سے بہترین فیصلہ تھا۔۔۔۔۔۔اسی وقت مجاہدین کی داغ بیل ڈل گئی۔۔۔۔!

افغانستان کے سردار داوود نے پاکستان کے اندر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بغاوت پیدا کی اور اسکو سپورٹ کیا تاکہ پاکستان سے وہ علاقے واپس لیے جا سکیں جن پر افغانستان کا دعوہ ہے جب حالات زیادہ خراب ہوئے تب ذولفقار علی بھٹو نے افغانستان کو جواب دینے کا فیصلہ کیا اور چند سٹوڈنٹس لیڈر بشمول گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کو بلوا کر چراٹ میں ٹریننگ دے کر واپس افغانستان بھیجا کہ افغانستان میں اسلامی انقلاب لائیں جنہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں داوود حکومت کی چولیں ہلا دیں اور اس نے اسلام آباد کا دورہ کر کے پاکستان سے تصفیہ کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک جمہوری حکومت کے پیدا کردہ یہ جنگجو طاقت حاصل کر چکے تھے اور بعد میں روس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جنرل ضیاء نے انکو استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان مجاہدین ایک جمہوری حکومت کی پیداوار تھے جس کو بعد میں ایک جرنیل نے ایک بڑی حملہ آور طاقت کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا۔۔۔۔۔۔۔!!

انکو اسوقت پیدا کرنا اور روس کے خلاف استعمال کرنا وقت کے لحاظ سے بہترین فیصلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

سن بانوے ترانوے میں جب افغانستان میں حالات زیادہ خراب ہوئے تو وہاں نئے نئے ابھرنے والے طالبان کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا یہ بینظیر بھٹو کی حکومت تھی جو ایک جمہوری لیڈر تھی اور پیپلز پارٹی کے قریب سمجھے جانے والے نصیراللہ بابر نے اہم کردار ادا کیا۔۔۔۔۔
طالبان ایک جمہوری حکومت کے پیدوار ہیں یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔۔

پاکستان کے اندر چاروں بڑے فوجی آپریشن ایک کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف، ایک مری قبائلز کے خلاف بلوچستان میں ایک سوات میں دہشت گردوں کے خلاف اور ایک جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جمہوری لیڈروں کے حکم پر ہوئے ۔۔۔۔۔ اور درست تھے۔۔۔۔

اگر آپ پاکستان کی مجاہدین پالیسی یا فوجی آپریشنز کو فساد کی جڑ سمجھتے ہیں تو آپ کو صرف پاک فوج کو مورد الزام نہیں ٹہرانا چاہئے ۔۔۔۔۔آپ تحقیق کریں اس وقت کے حالات کے بارے میں اور سارے حقائق کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں اور اعتدال سے کام لیں ۔۔

مغربی طاقتیں اپنے مفادات کی وجہ سے پاکستان پر حملہ آور ہیں اور وطن عزیر پر ایک پیچیدہ اور اعصاب شکن جنگ ملسط کی جا چکی ہے ان حالات میں پاک فوج قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس لڑائی کو جیتنے کے لیے مغرب اپنے کارندوں کے ذریعے اس قسم کے نعروں کو بلند کر کے پاک فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ ہمیں شکست دی جا سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا دشمن کی اس چال کو سمجھیے اور اپنی ہی فوج کو کمزور مت کیجیے ۔۔۔۔۔۔

پاک فوج کا روزانہ شہید ہونے والا ہر سپاہی آپ پر قرض چھوڑ رہا ہے اپنی فوج کو اکیلا مت چھوڑیئے ورنہ پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔۔۔۔۔!

تحریر شاہد خان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here