بھٹو اور ضیاء میں کردار کا فرق

0
94

ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگا دی تھی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا تھا کہ ” اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ ” ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی ” قوم کی ماں ” کہتے ہیں ۔

ﺟﺐ ضیاء الحق ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺗﮭﮯ

ضیاء السلام انصاری اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ میری جنرل ضیاء سے ایک ملاقات طے تھی ۔ ان دنوں بے نظیر بھٹو پاکستان سے باہر جا رہی تھی اور کچھ لوگ اس کے جانے کے حق میں نہ تھے ۔ انہی میں سے کسی نے میرے سامنے بے نظیر کے کسی سکینڈل کا ذکر کر دیا ۔ بات میرے ذہن میں رہ گئی جب جنرل ضیاء سے ملاقات ہوئی تو بے نظیر بھٹو کے باہر جانے کا ذکر آیا ۔ میرے منہ سے نکل گیا کہ ” لوگ کسی سکینڈل کا ذکر کر رہے ہیں ” ۔۔

روس کے خلاف جہاد اور جنرل ضیاء کی شرائط
یہ الفاظ منہ سے نکلتے ہی میں نے دیکھا کہ ضیاء الحق کا رنگ بدل گیا اور ناگوار لہجے میں انہوں نے کہا ” انصاری صاحب آپ بیٹیوں کے باپ ہیں ۔ ایسی باتیں سن کر دوسرے کان سے نکال دینی چاہئیں کجا یہ کہ آپ مجھ سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔” ۔۔۔

کتنی حیران کن بات ہے ۔

مضمون نمبر 1

جنرل ضیاء الحق اور الطاف بھائی

ایک طرف ایک مشہور جمہوری لیڈر جو بھرے مجمعے میں ایک ایسی عورت پر تہمت لگانے سے نہیں جھجکا جس کے کردار پر داغ تک نہیں تھا ۔۔

یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا

اور دوسری طرف جنرل ضیاء الحق بے نظیری بھٹو جیسی عورت کی اپنے قریبی دوست کے سامنے بھی پردہ پوشی کر رہے تھے جو اکسفورڈ یونیورسٹی میں ” پنکی ” کے نام سے مشہور تھی ۔ جس کےشرمناک کارناموں کا ذکر جب ٹیلی گراف اخبار میں آیا تو بے نظیرنے اس اخبار پر پاکستان میں پابندی لگا دی تھی ۔

پاکستان کا پلوٹونیم بم

ان دو چھوٹے چھوٹے واقعات سے پاکستان کی ان دو نامور شخصیات کے ظرف اور کردار کا فرق معلوم کیا جا سکتا ہے ۔۔۔ 

تحریر شاہدخان

کیا واقعی جنرل ضیاءالحق نے ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کروایا تھا؟

جنرل ضیاء پر ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر جیسے الزامات

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here