بھارتی ٹینک ارجن بمقابلہ پاکستانی ٹینک الخالد

0
55
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الخالد ٹینک اور بهارتی ارجن ٹینک کی آفیشل ذرائع سے تصدیق شدہ رفتار (72 کلومیٹر فی گهنٹہ)برابر ہے. دونوں ٹینک چھ سے آٹھ گولے فی منٹ کے حساب سے داغتے ہیں. الخالد ٹینک اپنی مین گن سے میزائل فائر کرسکتا ہے جبکہ بهارتی ارجن ٹینک اس صلاحیت سے لیس نہیں ہے.

الخالد ٹینک کی مین گن 125ایم ایم کی ہے جبکہ ارجن ٹینک 120 ایم ایم کی مین گن سے لیس ہے. الخالد ٹینک میں آٹومیٹک لوڈنگ سسٹم ہوتا ہے جبکہ بهارتی ارجن ٹینک میں ایک سپاہی خود مین گن میں گولے لوڈ کرتا ہے.

بهارتی ارجن ٹینک میں لیزر نہیں ہوتا جبکہ پاکستانی الخالد ٹینک میں لگا لیزر دس کلومیٹر کی رینج تک ٹارگٹ کی نشاندہی کر سکتا ہے. ارجن ٹینک کی رات کے وقت کامیاب نشانہ لگانے کی شرح 20 فیصد ہے جبکہ الخالد ٹینک کی کامیاب نشان لگانے کی شرح  80 فیصد ہے.

الخالد ٹینک اب تک 2011 میں بنگلہ دیش کو (44 عدد) اور رائل موروکن آرمی کو بهی فروخت کیے جا چکے ہیں.جبکہ دوسری طرف ارجن میں آنے والے فالٹس کی وجہ سے انڈین آرمی نے خود ہی اس ٹینک کو ناقابل اعتبار قرار دے دیا ہے.

الخالد ٹینک کا پروجیکٹ 1993 میں شروع ہوا اور 1999ء میں مکمل ہوا. ارجن ٹینک کا پروجیکٹ 1974 میں شروع ہوا جبکہ یہ پروجیکٹ انڈین آرمی کے مطابق 2004 میں مکمل ہوا. لیکن خود انڈین میجر جنرل ایم ا یل پوپلی کے مطابق یہ پروجیکٹ ابهی بهی جاری ہے اور اب اسے 2020ء میں مکمل کرنے کی امید ہے۔

یہ ٹینک تیجس طیارے کی طرح بهارتیوں کے لیے سفید ہاتهی ثابت ہوا. ایک ارجن ٹینک تقریباً 8.1 ملین امریکی ڈالر کا تیار ہو رہا ہے، جبکہ الخالد 5 سے 6 ملین امریکی ڈالر میں تیار ہو جاتا ہے.

بهارتی کہتے ہیں کہ ہمارا ارجن ٹینک پورا ملکی ساختہ ہے لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے. ارجن ٹینک کا انجن فرانسیسی ساختہ، جرمن ساختہ مین گن، روسی ساختہ ڈیزائن، حتیٰ کہ گولے بهی اسرائیلی ساختہ ہیں.

جبکہ پاکستان کا الخالد ٹینک روسی ساختہ انجن کے علاوہ باقی تمام آلات پاکستانی ساختہ استعمال کرتا ہے. یاد رہے پاکستان نے “نائزہ” نام کا خاص راونڈ(گولہ) بنایا ہے جو کہ 550 ملی میٹر کی ٹینک کی سخت ترین دیوار کو چیر دینے کی صلاحیت رکهتا ہے،(کہا جاتا ہے کہ یہ راونڈ خاص بهارتی ٹی-90 کو ٹهکانے لگانے کے لیے بنائا گیا ہے.) اس راونڈ کی افیکٹیو رینج دو کلومیٹر ہے لیکن الخالد کی مین گن کسی راونڈ کو 7000 میٹر تک فائر کر سکتی ہے.

اب آتے ہیں بهارتی افسران کے اپنے ارجن ٹینک کے متعلق بیانات پر جو کہ گوگل پر بهی مل سکتے ہیں.

میجر جنرل ایم ایل پوپلی کے مطابق:

“بدقسمتی سے ارجن ٹینک توقع سے زیادہ وزنی ہے. فرانسیسی انجن، جرمن مین گن لگانے کے باوجود یہ ٹینک انڈین آرمی کے معیار پر پورا نہیں اترا. بہت زیادہ بهاری ہونے کے باعث اس ٹینک کی منتقلی میں مشکلات پیش آتی ہیں.جو کہ اسکی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں. میرے خیال میں بهارتی دفاعی ادارے “ڈی آر ڈی او” کو پاکستانی ماہرین سے تجربہ حاصل کرنا چاہیے، میں سمجهتا ہوں کہ ملکی ساختہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے پاکستان نے الخالد اپنے ملک میں تیار کیا”۔

مارچ 1990 میں انڈین آرمی چیف آف سٹاف جنرل وی این شرما جو کہ آرمورڈ اکسپرٹ بهی تهے انہوں نے ارجن ٹینک کی ایک پروٹو ٹائپ کا معائنہ کیا اور بعد میں میڈیا سے بات کرت ہوئے کہا “زیادہ سے زیادہ 11 سو میٹر کے فاصلے پر 5 میٹر بڑا ٹارگٹ رکها گیا.ارجن ٹینک کے پانچ میں سے تین گولے ٹارگٹ کو لگے جبکہ یہ ٹینک حرکت کرتے ہوئے ٹارگٹ کو کوئی بهی نشانہ لگانے سے محروم رہا”

اس ناکامی کے بعد اس ٹینک کو دوبارہ بنانے کے لیے کہا گیا. اسکے بعد 1996 اور 1997 میں اسکا ٹرائل کیا گیا لیکن یہ ٹینک دوبارہ بری طرح ناکام ہوا. اس دوران پتا چلا کہ ٹینک کا فائر کنٹرول سسٹم اتنا گهٹیا ہے کہ وہ 42 ڈگری پر ہی کام کرنا چهوڑ دیتا ہے.خیر اسے دوبارہ بننے کے لیے بھیج دیا گیا. بھارتی عوام کے پریشر پر 2004 میں اس ٹینک کو بغیر چیک کیے ہی سروس میں شامل کر لیا گیا. لیکن اس ٹینک کی صلاحیت کا پول 2007ء میں راجستان کے صحرا میں کهلا، جہاں پتا چلا کہ یہ ٹینک ابهی بهی اصل رینج اور صیح نشانہ لگانے سے محروم ہے.

اسکے بعد بهارتی دفاعی ادارے کو مزید ایک سال کا وقت دے دیا گیا. اگلے سال موسم گرما میں پهر مشقیں ہوئیں.ارجن ٹینک کے 14 انجن فیل ہو گئے.پتا چلا کہ یہ ٹینک 50 ڈگری ٹمپریچر میں ناکارہ ہو جاتا ہے.اور دوسرا یہ کہ 60 ٹن وزن ہونے کے باعث اس ٹینک کو ریل گاڑی یا فوجی ٹرک سے منتقل کرنا بهی انتہائی مشکل ہے.آخر بهارت نے عوام کے غصے سے مزید بچنے کے لیے روس سے ٹی-90 ٹینک خریدنے کا معاہدہ کر لیا.

بعد میں بهارتی حکومت نے2020 کو ایک نیا ارجن ٹینک بنانے کا دعویٰ کیا جس پر ابهی تک عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا.

آخر میں بتاتا چلوں کہ بهارت نے اپنے غرور میں کہا تها کہ ہم 1974سے لیکر 1996 تک دس آرمورڈ ڈویژنز کو ارجن ٹینک سے لیس کریں گے لیکن بهارت اپنی ایک بهی آرمورڈ ڈویژن نا بنا سکا.

تحریر: سعیدغالب


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here