بھارتی فضاؤں میں پرواز کرتے پاک فضائیہ کے اس جہاز میں موجود کمانڈوز نعرے لگا رہے تھے

0
113

رات کے سناٹے میں
بھارتی فضاؤں میں پرواز کرتے پاک فضائیہ کے اس جہاز میں موجود کمانڈوز نعرے لگا رہے تھے
جہاز کے پائلٹ نے ساری لائٹیں بجھائی ہوئی تھیں
دشمن پر کاری وار کرنے کا عظم کرتے یہ مجاھدین جن کو اپنی شہادت سے زیادہ دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی پریشانی تھی
نعروں سے اپنے ولولوں کو دو چند کر رہے تھے
ستمبر انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں یہ پہلا کاری وار تھا جو پاکستان پیراٹروپنگ کے ذریعے لگا رہا تھا
بھارتی پنجاب کے شہر انبالے کے مضافات میں پہنچ کر پائلٹ نے گرین سگنل دیا اور جہاز کا دروازہ کھول دیا
دو دو کی جوڑی میں کمانڈوز آگے بڑھتے اور دشمن کی فضا کی وسعتوں میں گم ہو جاتے
زمین پر کامیاب لینڈنگ کے بعد وہ سب اکٹھے ہوے اور مقررہ جگہ پہنچ کر مقامی دوستوں کا انتظار کرنے لگے
ٹھیک وقت پر مقامی دوست بڑے بڑے صندق لیکر آ گئے جن میں ہندو بنئے کی دھلائی کا مکمل سامان موجود تھا
وطن سے ہزاروں میل دور ان پچیس چھبیس جوانوں کا ٹارگٹ انبالہ کا ائیر بیس تھا
مکمل بلیک آؤٹ کی وجہ سے یہ لوگ با آسانی اڈے میں داخل ہوے اور اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں
عین ان لمحات میں جب انڈین ائر فورس کے پائلٹ پاکستان کی تباہی کا مژدہ لئے اپنے اپنے طیاروں میں بیٹھ رہے تھے تو نعرہ تکبیر بلند ہوا اور طیاروں کے اپنے پائلٹوں اور عملے سمیت پرخچے اڑنے لگے
دل کھول کے ارمان نکالنے کے بعد انہوں نے دیکھا تو ائیر بیس پر کوئی ذی روح اور کوئی انفراسٹرکچر سلامت نا تھا
انبالہ کا ہوائی اڈا اپنے عملے سمیت راکھ ہو چکا تھا
ہوائی اڈے کو چاروں طرف سے انڈین آرمی نے گھیر لیا
لیکن اللہ کے ان شیروں نے گرفتاری پر شہادت کو ترجیع دی اور لڑتے لڑتے سرحد کی طرف جانے لگے
اس حملے کے تین دن بعد دو کمانڈوز پاکستانی سرحد میں داخل ہوے
اور رپورٹ دی کہ پیراٹروپرز کے اس گروپ میں سے صرف یہ دونوں ہی زندہ رہیں ہیں باقی سب شہید ہو گئے
یہ عزم و ہمت کی ایک ایسی حیران کن داستان ہے
جو ہمیشہ پاکستانی افواج کے ماتھے پر جھومر کر طرِح سجتی رہے گی
صرف پچیس کمانڈوز وہ کام کر گئے تھے جو کئی طیاروں کے سکوارڈن بھی نہیں کر سکتے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here