بھارتی خفیہ ایجنسی اور پاکستان میں اسکے ایجنٹس

0
272

1996میں انڈیا بھر میں بنگلہ دیش کی 25 ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی، اور اس موقعے پر متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

ایسی ہی ایک تقریب میں بنگلہ دیش کے ایک صحافی نے ایک لمبا، پرکشش صورت والا شخص دیکھا جو ہال کے پچھلے حصے میں بیٹھا ہوا تھا۔ صحافی نے ان کے پاس جا کر کہا: ‘سر، آپ کو تو سٹیج پر ہونا چاہیے تھا، آپ کے بغیر تو 1971 ممکن ہی نہیں تھا۔’

اس شخص نے جواب دیا: ‘نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔ سٹیج پر بیٹھے لوگ تعریف کے مستحق ہیں۔’ اس کے بعد یہ شخص اٹھا اور ہال سے باہر چلا گیا۔

ان کا نام رمیشور ناتھ کاو تھا اور وہ انڈیا کے بدنام زمانہ دہشتگرد خفیہ ادارے را کے بانی تھے.

اس سے اندازہ لگائیے کہ پاکستان آج سے نہیں ہمیشہ سے ہی بیرونی ایجینسیز کے نشانے پر رہا ہے.

پاکستان کی ایجینسیز اور پاک آرمی جگہ جگہ ان سے نبرد آزما ہیں.

لیکن کوئی بھی بیرونی دشمن ایجنسی اپنا ٹارگٹ تب تک پورا نہیں کر سکتی جب تک ان کو لوکل آپریٹر میسر نا ہوں ان ایجینسیز کے لیے ایسے لوگ بہت سود مند ثابت ہوتے ہیں جو نسلی، علاقائی یا لسانیت کی بنیاد پر معاشرے کی گروہ بندی کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں.

جیسے کہ الطاف حسین جس نے مہاجر کارڈ کھیلتے ہوئے ایم کیو ایم جیسی متشدد جماعت کی بنیاد رکھی اور کراچی میں نسلی گروہی تعصب کی بنیاد پر قتل و غارت شروع کی.

کسی کی پشت پناہی کے بغیر ملک میں بڑی کارروائی نہیں ہو سکتی اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ الطاف حسین کی فنڈنگ بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالسس ونگ یعنی را نے کی.

پاکستان سے جلا وطنی کے بعد الطاف حسین برطانیہ میں ایم آئی 6 کے مہمان ہیں. اس بات سے اندازہ لگائیے کہ پاکستان کا دشمن بیرونی ایجینسیز کا چہیتا ہوتا ہے

پاکستان میں را کی آفشور کمپنی ایم کیو ایم کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا وہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی. تب را نے پاکستان میں ایم کیو ایم کی طرز پر قومیت کی بنیاد پر تحریک کی تلاش شروع کی اور اپنی اتحادی ٹرائیکو موساد، سی ائی اے اور این ڈی ایس کے تعاون سے پاکستان میں چھوٹی سی موومنٹ، پشتون تحفظ موومنٹ کو ایم کیو ایم کی طرز پر لانے کے لیے ہائی جیک کرنے کا پلان بنایا.

یہ پلان 17 فروری کو لندن ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر کو ٹربیوٹ پیش کرنے کی تقریب میں ڈسکس ہوا بظاہر یہ تقریب ڈاکٹر ظفر کی خدمات کے اعتراف میں تھی لیکن اس میں پاکستان میں بیرونی ایجینسیز کے لوکل آپریٹرز نے شرکت کی.

اس تقریب میں الطاف حسین کے علاوہ رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ندیم احسان ، بی بی سی لندن اردو سروس کےشفیع نقی جامعی،برطانیہ کے پہلے کوئنز کاؤنسل اورقانون دان بیرسٹر صبغت اللہ قادری ، فرحت تاج، وغیرہ نے شرکت کی.

پنڈال میں ایم کیو ایم کے مارے گئے ٹارگٹ کلرز کے ساتھ ساتھ قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود شہید کی تصاویر بھی لگائی گئی تھیں. اب خود سوچیے کہ ایک پاکستان مخالف جماعت جو کہ قوم پرست جماعت بھی ہے اسے پشتونوں سے کیسے ہمدردی ہو سکتی تھی .

اور اس پروگرام کے بعد فرحت تاج نے پشتون ٹائمز پہ ڈیلی وڈیو پروگرام کرنے شروع کیے جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کو سپورٹ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا .

سی آئی اے دوسرا اینڈ سنبھالے ہوئے وائس آف امریکہ پہ منظور پشتین کے انٹرویو بار بار نشر کرتا بلکہ فیک مسنگ پرسن کی سٹوریز بھی نشر کرتا جو بار بار لوگوں کی توجہ دلانے پر کہ یہ افغانستان کے لوگ ہیں تب بھی باز نہیں آتا.

بھارت، امریکا اور اسرائیل اور ان کا بچہ جمورا افغانستان کا گٹھ جوڑ پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ امریکا ایک جانب پاکستان اور چین کیخلاف بھارت کی سرپرستی کررہا ہے تو دوسری جانب وہ سی آئی اے اور را کے ذریعے جنوبی ایشیا کے حالات کو خراب کررہا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کڑیاں امریکی سی آئی اے، بھارت کی را اور اسرائیل کی موساد سے ملتی ہیں پاکستان کو اس وقت دو طرح کی ڈاکٹرائن کا سامنا ہے .

1) بھارتی ڈاکٹرائن۔۔۔ مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا کرکے پاکستان کو دباؤ میں رکھنا۔اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانا

(2) امریکی ڈاکٹرائن۔۔۔ پاک افغان سرحد پر امن قائم نہیں رہنے دینا۔ یہ ڈاکٹرائن را، سی آئی اے اور موساد نے مل کر تیار کی ہوئی ہے، لہٰذا باری باری کبھی لائن آف کنٹرول پر اور کبھی قلیل وقفے کے بعد پاک افغان سرحد پر ایسے غیر معمولی حالات پیدا کیے جاتے ہیں.

جن سے پاکستان کو اندرونی استحکام کا چیلنج مسلسل درپیش رہتا ہے. منظور پشتین کو پرموٹ کرنے کے لیے یہ ایجینسیز اس کے پہناوے سے لے کر اس کی بول چال پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہیں اس کے لیے اس کی ٹوپی سے لیکر کپڑوں تک کو عوام میں زیر بحث لایا جاتا ہے 

منظور پشتین سر پر سرخ رنگ کی کشیدہ کاری کی ہوئی ایک خاص قسم کی ٹوپی پہنتا ہے ۔ یہ ٹوپی پشتونوں کی پوشاک کا حصہ نہیں۔ البتہ افغانستان کے شمال کی اقوام ہزارہ، ازبک ، تاجک اور ترکمن ضرور استعمال کرتے ہیں۔ سرخ رنگ کی ٹوپی منظور کی تحریک میں شامل نوجوان بھی سروں پر رکھنا شروع ہوگئے۔ افغانستان کے ٹی وی چینلز اور وائس اف امریکہ پر ان ٹوپیوں کی خریدو فروخت پر متعدد رپورٹس نشر کی جاتیں ہیں ۔۔ٹوپیاں فروخت کرنے والا کہتا ہے کہ پاکستان میں پشتون عوام کے ساتھ وہاں کی حکومت زیادتی کررہی ہے اس وجہ سے افغانستان کے لوگوں نے بھی ان سے اظہار یکجہتی کیلئے یہ ٹوپیاں خریدنا شروع کردی ہیں۔ اور یہی کچھ خریداروں سے بھی بلوایا جاتا ہے۔ ان کے جملوں میں ”لر“ا و” بر“ ” یو افغان“ یعنی پاکستان اور افغانستان میں رہنے والے ایک ہی قوم اور ملت کا حصہ ہیں ۔ یہ وہی پچاس، ساٹھ اور ستر حتیٰ کہ اسی کی دہائی کے نعرے ہیں۔ جس کی پذیرائی افغان حکومتیں کرتی رہی ہیں.

۔ جو لوگ پشتون موومنٹ میں بیرونی ہاتھ سے انکار کرتے ہیں ان سے یہ سوال ہے کہ پاکستان کے اندر کسی تنظیم کے مطالبات اور احتجاج پر بھارت اور افغانستان، وائس آف امریکہ، بی بی سی جیسے میڈیا کو ہمدردی اور پریشانی کا غم کیوں کھارہا ہے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here