برما کے حوالے سے دو اہم خبریں سنی ہیں۔ 

0
1491

برما کے حوالے سے دو اہم خبریں سنی ہیں۔ 

پہلی یہ کہ ملالہ نے “عالمی برداری” سے برما میں مداخت کی درخواست کی ہے۔ جس کو پوری دنیا کی میڈیا نے خوب اچھالا ہے۔ 

اور دوسری اراکان میں القاعدہ کے حملوں کی اطلاعات آئی ہیں جس میں راخائن ملیشیا کے سر کاٹے گئے ہیں۔ 

کچھ دن پہلے ایک دوست نے دعوی کیا کہ ترکی، ایران اور چیچنیا کی فوجیں روہینگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے پہنچنے والی ہیں تو میں نے عرض کی کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ وہاں صرف ایک جماعت لڑنے جا سکتی ہے اور وہ ہے القاعدہ یا اسکی کوئی ذیلی شاخ بشمول داعش یا جماعت الحرار وغیرہ۔

میں نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی اس رائے کی وجہ بھی تفصیل سے لکھونگا جو پیش خدمت ہے۔

القاعدہ اور اس سے جنم لینی والی تمام جماعتوں پر انڈیا کا بے پناہ اثر رسوخ ہے۔
برما یا میانمار جانے کا واحد زمینی راستہ انڈیا ہے۔
بنگلہ دیش بھی انڈیا کے اندر ہی واقع ہے جبکہ چین اور تھائی لینڈ کا راستہ اختیار کرنا محال ہے۔

یہ ہوئی ایک بات اب اور سنئیے۔۔۔۔۔

چین کی برما میں 3 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری ہے۔

انڈیا کی بھی برما میں بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔

برما اور چین ملکر ایک تیل و گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کر رہے ہیں جو برما کی تیل و گیس کو چین پہنچائے گا۔ انڈیا کو اس منصوبے پر سخت تکلیف ہے۔

برما اس گولڈن ٹرائی اینگل کا حصہ ہے جو دنیا کی 25 فیصد افیون پیدا کرتا ہے اور سی آئی اے اپنے 90 فیصد اخراجات ڈرگرز کی سمگلنگ سے پوری کرتی ہے۔ اس پر میں ایک تفصیلی مضمون لکھ چکا ہوں۔

برما ایک انتہائی اہم سٹریٹیجل لوکیشن پر واقع ہے۔

انڈیا اور امریکہ دونوں کی برما میں موجود تیل و گیس کے ذخائر پر رال ٹپک رہی ہے۔ جبکہ ینٹاگان کو وہاں موجود افیون کی بھی ضرورت ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہاں بیٹھ کر امریکہ چین کی ناکابندی کر سکتا ہے۔
یہیں سے امریکہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے ایک اہم حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

نریندر مودی دہری چال چل کر یہاں امریکہ کے لیے زمین ہموار کر سکتا ہے۔

ایک طرف وہ بظاہر برمی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اعلان کر رہا ہے کہ برمی فوج صرف دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کر رہی ہے۔
دوسری طرف وہ امریکہ کے ساتھ ملکر پراپیگینڈا کر رہا ہے کہ چین برما کا یہ علاقہ مسلمانوں سے خالی کروانا چاہتا ہے اور یہ سب کچھ چین کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ تاکہ چین کے خلاف مسلمانوں میں نفرت پیدا کی جا سکے۔

اب اگر انڈیا برما میں القاعدہ برصغیر یا داعش ٹائپ کا کوئی گروہ داخل کرتا ہے تو ان کو برمی فوج کے ساتھ ساتھ چینی تنصیبات پر حملے کرنے کا بھی ٹاسک دیا جائیگا۔ جس کو مسلمانوں کی جانب سے بدلہ قرار دیا جائیگا۔
اب تک القاعدہ امریکہ کا ہراول دستہ ثابت ہوا ہے۔ جہاں القاعدہ پہنچ جائے وہاں امریکہ کو پہنچتے دیر نہیں لگتی۔

امریکہ کے لیے افغانستان میں حالات مخدوش تر ہوتے جا رہے ہیں جس کی تلملاہٹ کچھ دن پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے ظاہر ہوئی۔ وہاں وہ اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں جو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ افغانستان کو مکمل طور پر کسی پرائیویٹ امریکی تنظیم مثلاً بلیک واٹر یا ڈائن کور وغیرہ کے سپرد کر کے برما پر فوکس کیا جائے۔
یہ تنظیمیں ہر قانون اور ضابطے سے ماوراء ہیں یہ افغانستان اور پاکستان میں تباہی مچا سکتی ہیں۔

اگر واقعی ایسا کچھ ہوتا ہے تو چین کے برما میں تمام خواب چکنا چور ہو سکتے ہیں۔

چین کا حال یہ ہے کہ وہ اب تک 30،000 روہینگیا مسلمانوں کو پناہ دے چکا ہے اور برما کی حکومت کو بنگلہ دیش کے ساتھ روہینگیا مسلمانوں کا معاملہ سلجھانے کی بھی پیشکش کر چکا ہے جس کو برمی حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔ چین کو یہ بھی ڈر ہے کہ برما پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے نتیجے میں وہ انڈیا کی طرف جا سکتا ہے۔

بلکہ الٹا برمی حکومت چین پر برما کے خلاف لڑنے والی ایک تنظیم کی سرپرستی کا بھی الزام لگا رہی ہے جو کہ ایک غیر مسلم جنگجو تنظیم ہے۔

اوپر میں نے ملالہ کے بیان کا حوالہ دیا ہے۔ یاد رکھیں! ملالہ کا ہر لفظ سکرپٹڈ ہوتا ہے اور وہ وہی بولتی ہے جو اس کو کہا جاتا ہے۔ اور اسکی “عالمی برادری” صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں تک ہی محدود ہے!

یہ بڑی طاقتوں کے مفادات کی کھچڑی ہے جس میں حسب معمول مسلمان پس رہے ہیں۔

مجھے نہیں علم کہ برمی فوج یا راخائن ملیشیاء کے خلاف کاروائی خود روہینگیا مسلمانوں نے ہی کی ہے یا واقعی وہاں کوئی تنظم پہنچ چکی ہے۔

بہرحال اس ظلم کو روکنے کی چابی اب بھی برمی حکومت کے پاس ہے جسکو مجبور کیا جاسکتا ہے اگر چند بڑے اسلامی ممالک کرنا چاہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صرف گرما گرم بیانات دینے یا امداد بھیجنے سےوہ قتل عام نہیں روکا جا سکتا۔

کوئی ایسا عملی اقدام کرنا ہوگا جو برمی حکومت کو مجبور کر دے۔ اگر نہیں کر سکتے تو جیسا کہ میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں عرض کی تھی کہ پھر ان چند لاکھ روہینگیا مسلمانوں کو بڑے اسلامی ممالک آپس میں بانٹ لیں۔

لیکن خدارا مزید دیر نہ کریں۔۔۔

تحریر شاہدخان

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here