ایک یہ ماں ہے جو مرتے مرتے بھی اپنے خاندان کی ” لوٹ ” کو بچانے کا وسیلہ بنی ہوئی ہے۔

0
104

چوروں کی مائیں ۔۔۔

مبینہ طور پر یہ عورت قریب المرگ اور شدید بیمار ہے۔

لیکن اس کے غلیظ خون میں کرپشن ایسی رچی بسی ہے کہ اسی بیماری کی حالت میں انتخاب لڑا اور قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں جس کے بعد لندن کے مہنگے ترین اسپتال میں دو سال تک اس کے علاج کے اخراجات عوام کی جیبوں سے ادا کیے جاتے رہے۔

اگر اس کو واقعی موت کا خوف اور اس کے بعد اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا ڈر ہوتا تو کم از کم اپنی نشت سے ضرور استعفی دے دیتیں جس سے وہ لندن بیٹھ کر مفت کی مراعات وصول کر رہی ہیں اور بدلے میں قوم کی کوئی خدمت کرنا تو درکنار اسمبلی میں بھی جانے کے لائق نہیں۔

اسی کی بیماری کو جواز بنا کر نہ صرف شریف خاندان عیدیں منانے لندن پہنچ جاتا ہے بلکہ پاکستانیوں پر تمام تر ظلم کے باؤجود ان کی ہمدردیاں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہے۔

کیا اس منحوس عورت نے ایک بار بھی اپنے شوہر اور بیٹی کو کہا ہوگا کہ لوگوں سے لوٹا ہوا مال ان کو لوٹا دو اور ان کو مزید دھوکے دینا بند کردو؟

ایک یہ ماں ہے جو مرتے مرتے بھی اپنے خاندان کی ” لوٹ ” کو بچانے کا وسیلہ بنی ہوئی ہے۔

اور ایک سب کی ماں ہے جس نے انصاف کا ترازو اٹھایا ہوا ہے اور سب کو بچا رہی ہے۔

اس ” ماں ” نے نواز شریف کے وکیل کو دوسرا وکیل کرنے کا مشورہ دیا جس کو انہوں نے فوراً قبول کر لیا۔ اب دوسرا وکیل آئیگا دوبارہ کیس سٹڈی کرے گا مزید مہلت لے گا اور پھر شائد کسی تیسرے وکیل کی باری آجائے۔

یوں یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اسی دوران مریم نواز نے انتخاب کے لیے کاغذات جمع کروا لیے ہیں۔ نااہل خواجہ آصف اہل ہوچکے۔ نواز شریف ویسے بھی ریٹائرڈ ہوکر اپنی بیٹی کو ہی لانا چاہتا تھا جو آچکی۔

مال مسروقہ کی موجودگی کا اعتراف ہوچکا،
پیش کیے گئے کاغذات جعلی ثابت ہوچکے،
بیانات میں تضادات ثابت ہوچکے،

لیکن تین سال سے فیصلہ نہیں ہورہا۔ نہ ہی مال مسروقہ وصول کیا گیا نہ ہی چور کو سزا ملی۔ البتہ منصف مسلسل عوام سے اپنے انصاف کی داد طلب کر رہا ہے۔

یہی منصف تمام چوروں کی اصل اور سب سے بڑی ماں ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here