ایک نئی جنگ پاکستان کے دروازے پہ دستک دے رہی ہے.

0
129

جنگ کا طبل بج چکا.
ایک نئی جنگ پاکستان کے دروازے پہ دستک دے رہی ہے. امریکی طرز عمل اور بیانات کی روشنی میں کوئی شک نہیں رہتا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا. وجہ کچھ بھی ہو، سی پیک کی تکلیف ہو، چائنہ کی ابھرتی معاشی طاقت کی تکلیف ہو، بلوچستان کے نیچرل ریسورسز پہ نظر ہو، پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائز کرنا ہو، اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پہ گرانا، پاکستان کو توڑنا ہو یا کچھ بھی ہو ایک بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ امریکا پاکستان سے لازمی طور پہ جنگ کرے گا.
جنگ کی نوعیت واضح نہیں ہے کہ کس انداز میں ہو. مگر ہم عراق کی مثال کو سامنے رکھیں تو یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ امریکا سائیکو لاجیکل وارفیئر پاکستان پہ ضرور مسلط کرے گا. پاکستان میں پالیسی سازوں کو جن نقاط پہ ہنگامی بنیادوں پہ کام بنا مزید تاخیر کے شروع کرنا چاہیے وہ یہ ہیں.
تمام کے تمام ففتھ کالمسٹس کو جلد از جلد جڑ سے ختم کرنا.
ان تمام عناصر کو جلد از جلد ختم کرنا جو پاکستان میں لسانیت، صوبائیت، تفرقہ بازی اور کسی بھی طرح کی اینٹی سٹیٹ گروہ بندی کا سبب بن سکتے ہیں.
ریاست کی طرف سے میڈیا ھاؤسز کو نہایت سخت انداز میں خبردار کرنا کہ کسی بھی طرح کے دماغی انتشار میں مبتلا کرنے والے عوامل سے باز رہیں. کیوں کہ میڈیا اور سوشل میڈیا اس جنگ میں سب سے بنیادی کردار ادا کریں گے امریکا کےلیے.
سوشل میڈیا پہ لسانیت، صوبائیت، تفرقہ بازی کو جنم دینے والوں کو کڑی سزائیں دینا.
جب ریاست یہ تمام کام کرے گی تو انسانی حقوق، شخصی آزادی، فریڈم آف سپیچ کے نام پہ امریکا پاکستان پہ عالمی دباؤ بڑھائے گا. اس کے سد باب کےلیے ریاست کو وہی کرنا ہو گا جو انڈیا نے کشمیر پر آواز اٹھانے والی این جی اوز کے ساتھ کیا. یعنی ملک سے مکمل پابند کر کے ان کے نمائندوں کو ملک بدر کرنا.
قوم کو حتی الوسع امریکہ کے طریقہ واردات سے آگاہ کر کے لسانیت، صوبائیت، تفرقہ بازی سے باز رہنے کی تلقین کرنا.
امریکا کو سخت پیغام دینے کےلیے فوری طور پہ شکیل آفریدی کو پھانسی دینا.
تعلیمی اداروں میں ملک مخالف سرگرمیوں پہ کڑی نظر.
تمام متنازعہ ویب سائیس کی بلاکنگ اور ان کے ایڈمنز کی گرفتاریاں کرنا.
امریکا کے پالیسی میکرز کو قائل کرنے کے بجائے ڈائریکٹ امریکی عوام کو میڈیا اور سوشل میڈیا کے زریعے اپروچ کر کے ان کو حقائق سے آگاہی دینا. یعنی پاکستان کی قربانیوں اور کردار سے متعلق آگاہی، افغانستان میں غلط امریکی پالیسیوں کے متعلق آگاہی، داعش سے متعلق بھارت اور امریکا کی دوغلی پالیسیوں سے متعلق آگاہی، امریکی عوام کو یہ باور کروانا کہ ان کے ٹیکسز کا پیسا امریکا ان کے دفاع پہ خرچ نہیں کر رہا بلکہ ملٹری انڈسٹریز کو وسعت دینے، بے گناہوں کو قتل کرنے اور قبضے کرنے کےلیے استعمال کر رہا ہے. امریکی عوام ٹیکس کے معاملے میں بہت کانشیئس ہیں.
آنے والے کچھ ہی عرصہ میں امریکی متعلقہ ایجنسیز سوشل میڈیا اور میڈیا کے زریعے مکمل طور پاکستان کے خلاف فعال ہو جائیں گی. جب کہ زمینی طور پر بھی پاکستان میں موجود ان کے اثاثے متحرک ہو جائیں گے. یہ بوتل میں قید جن باہر آیا تو زہنی انتشار کا ایک سیلاب امڈ آئے گا، ہر طرح کی انارکی عملی طور پہ رائج کرنے سے پہلے عوام کے زہن میں پکائی جاتی ہے، اس کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے اور دماغوں میں موجود لاوا بہہ نکلتا ہے. سوشل میڈیا کی حد تک اس کے سد باب کےلیے یہ پیمانے ریاست کو لاگو کرنے ہی کرنے ہوں گے. اور ریاست سے میری مراد خود غرض سیاست دان بالکل نہیں ہیں. ریاست سے مراد اس ملک میں موجود وہ بااختیار شخصیات ہیں جو اپنی زندگی سے بڑھ کر اس ملک اور اس کے عوام کو ترجیح دیتی ہیں.
ہماری فالٹ لائنز ہمارے سامنے ہیں. ہم جانتے ہیں کن حربوں کو استعمال کر کے امریکا نے شام عراق لیبیا میں تباہی مسلط کر کے وہ ملک برباد کیے. ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ماضی میں ہماری کن کمزوریوں کو ایکسپلائیٹ کر کے امریکا نے ہمیں نقصان پہنچایا. ہمارے سیاست دانوں کی بلیو فلمیں تک استعمال کر کے امریکی ان سے اپنے کام نکلواتے رہے ہیں. بس اس دفعہ ماضی کی کوئی غلطی نہیں دہرانی. قوم کو یہ سمجھنا یے کہ اب افغانستان میں امریکا کا کوئی مطلب نہیں ہے وہ پاکستان پہ گھات لگا کے بیٹھا ہے. اگر ہم عراق اور شام والی کوئی غلطی کریں گے تو وہ سالم نگل جائے گا. لہذا کوئی فرقہ واریت نہیں کوئی لسانیت نہیں کوئی صوبائیت نہیں کوئی میڈیا پراپیگنڈہ نہیں. جب یہ گراؤنڈز مضبوط ہو جائیں گے، قوم ایک لڑی میں ہو گی تو امریکا کی غیر مسلح جنگ کے سارے منصوبے ہم خاک میں ملا دیں گے. ان شاء اللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here