انڈیا بمقابلہ یاجوج ماجوج ۔۔۔۔۔۔

0
864
انڈیا بمقابلہ یاجوج ماجوج ۔۔۔۔۔۔ !

چین اور انڈیا جنگ کے دھانے پر ہیں۔ 

چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین ڈوکلام کے متنازع علاقے سے انڈین فوجیوں کو باہر نکالنے کے لیے آئندہ دو ہفتے کے اندر انڈیا کے خلاف ’محدود نوعیت کی جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈوکلام کا علاقہ انڈيا کی شمال مشرقی ریاست سکّم، چین اور بھوٹان کی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ 

گذشتہ چار ہفتوں سے چین اور انڈیا کی ایک دوسرے کے ساتھ 3500 کلومیٹر لمبی مشترکہ سرحد کے معاملے پر چپقلش جاری ہے۔ یہ معاملہ ایک چینی سڑک کی تعمیر پر شروع ہوا جس پر انڈیا کو تحفظات تھے۔ انڈیا کو ڈر ہے کہ چین سکم پر کنٹرول کر کے انڈیا پر چڑھائی کا راستہ بنا رہا ہے۔

اگر چین یہاں کنٹرول حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے کسی جنگ کی صورت میں بہت آسان ہوگا کہ اس کی افواج ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں آسام کی 7 ریاستوں کو انڈیا سے کاٹ دیں۔ جو انڈیا سے محض ایک پتلی سی پٹی کے ذریعے جڑی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ آسام کی یہ ساری ریاستیں پہلے ہی انڈیا سے بغاوت پر آمادہ ہیں اور وہاں بارہا پاکستان کا جھنڈا بھی لہرایا جا چکا ہے۔

چین کے سفیر برائے انڈیا لوؤ ژاوئی نے انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ذریعے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ ‘امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انڈیا بغیر کسی شرائط کے اپنی افواج سرحد سے پیچھے بلا لے”

انڈیا پھنس گیا ہے۔ وہ پیچھے ہٹتا ہے تو پوری دنیا میں اسکو ہزمیت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگر نہیں ہٹتا تو چین حملہ کرنے کے لیے تیاری کر چکا ہے۔

کچھ مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ انڈیا نے چین کو اس طرح چیلنج کر کے غلطی کر دی ہے ۔۔۔ 

پاکستان میں موجود عجیب و غریب قسم کی خالص جمہوری حکومت کو شائد علم ہی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ ان کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ ” عمران خان نے گلالئی کو 2013 میں گندہ میسج کیا تھا یا نہیں ” ۔۔

انڈیا اور چین کی اس ممکنہ جنگ پر پاکستان کا کوئی لائحہ عمل تو دور کی بات ابھی تک انکا کوئی بیان بھی سامنے نہیں آیا ۔۔۔۔۔ !!!

حالانکہ چین انڈیا پر دباؤ بڑھاتا ہے تو پاکستان اسکو بہت سی شکلوں میں کیش کر سکتا ہے خاص طور پر افغانستان اور کشمیر میں۔

میری رائے میں یاجوج ماجوج کوئی خفیہ قوم نہیں بلکہ ایک نسل کا نام ہے جیسے حبشی ایک نسل کا نام ہے۔ زرد چہروں اور ترچھی آنکھوں والے سارے یہی ہیں۔ اور یاجوج ماجوج کے جس خروج کا ذکر کتابوں میں آیا ہے وہ شائد چین سے ہوگا جب عیسائیت، یہودیت، اسلام اور ہندومت آپس میں ٹکرا کر تباہ و برباد ہوجائنگے تو چین کی شکل میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور دفاعی طاقت حشرات لارض کی طرح اپنی سرحدوں سے خروج کرے گی۔ لڑائی کے نتیجے میں تباہ حال مسلمانوں سمیت کوئی بھی ان کو روکنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ ۔۔۔۔ خیر یہ تو محض میرا ایک قیاس ہے ۔۔ 

فلحال تو یہ یاجوج ماجوج ہمارے دوست ہیں جو انڈیا پر چڑھائی کی تیاری کر رہے ہیں ۔۔ ہمیں اسکو خوش آمدید کہنا چاہے۔۔۔ 

تحریر شاہدخان

 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here