انڈیا اور ویکیپیڈیا کے مطابق 65ء کی جنگ میں انڈیا نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر پاکستان کا 3900 مربع کلومیٹر علاقہ فتح کر لیا تھا

0
1008
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

۔ 65 کی جنگ، ویکیپیڈیا کا پوسٹ مارٹم ۔۔۔ !

انڈیا اور ویکیپیڈیا کے مطابق 65ء کی جنگ میں انڈیا نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر پاکستان کا 3900 مربع کلومیٹر علاقہ فتح کر لیا تھا جو جنگ ختم ہونے کے بعد اس نے واپس کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں شہروں کا کل رقبہ ہی تقریباً 2000 مربع کلومیٹر ہے یعنی جتنا حصہ انڈیا نے 65ء میں ” فتح ” کیا تھا اسکا آدھا۔ لاہور کا کل رقبہ تقریبا 1700 مربع کلومیٹر اور سیالکوٹ کا شائد 100 مربع کلومیٹرسے بھی کم ۔۔ !

اس حساب سے 65ء کی جنگ میں انڈیا نے کم از کم ہمارے پورے دو شہر فتح کرنے کے بعد واپس کر دئیے تھے 

جبکہ ویکیپیڈیا اور انڈیا دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ سیالکوٹ میں انکے ٹینک چونڈا کے مقام پر ہی روک دئیے گئے تھے جو انڈین بارڈر کے قریب ہے اور لاہور میں وہ بی آری بی نہر اور برکی کو پار نہیں کر سکے تھے ۔ وہ بھی انڈین بارڈر کے قریب ہی واقع ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ لاہور اور سیالکوٹ کے ان سرحدی علاقوں کا رقبہ ان دونوں شہروں کے کل رقبے سے زیادہ کیسے ہوگیا ؟؟؟؟ 

پاکستان میں رہنے والے ” انڈین پاکستانی” شائد اس پر کچھ روشنی ڈال سکیں!

دوسری طرف ویکیپیڈیا کے مطابق پاکستان نے انڈیا کا 540 مربع کلومیٹر علاقہ فتح کیا تھا اور پاک فوج نے جن انڈین علاقوں میں پیش قدمی کی تھی ان میں رن آف کچ سب سے زیادہ مشہور ہے جس کا اکثر حصہ پاکستان نے فتح کر لیا تھا ۔

رن آف کچ کا کل رقبہ 20،000 مربع کلو میٹر کے لگ بھگ ہے۔ 20،000 مربع کلو میٹر کے رن آف کچ کا اکثر حصہ فتح کرنے کے بعد پاکستان کا کل فتح کیا گیا رقبہ محض 550 مربع کلو میٹر کیسے بنتا ہے ؟؟۔۔ اصولاً تو یہ 10،000 مربع کلومیٹر سے زائد ہونا چاہئےکیونکہ صرف آدھا اتنا بنتا ہے۔ جبکہ پاک فوج نے اور بھی کئی انڈین علاقوں کو فتح کیا تھا جن میں صرف مونابھاؤ کا رقبہ ہی 4 ہزار مربع کلو میٹر ہے!!

اور ایک مزے دار بات ۔۔۔۔ 

ویکیپیڈیا کے مطابق پاکستان کا اپنا دعوی ہے کہ اس نے محض 1700 مربع کلو میٹر کا علاقہ فتح کیا تھا اور جانتے ہیں ویکیپیڈیا مذکورہ دعوے کے لیے کس پاکستانی کا حوالہ دیتا ہے؟؟

پاکستان کا مایاناز سپوت حسین حقانی کا۔ جس نے امریکہ کو پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے سے منع کیا تھا اور دلیل یہ دی تھی کہ پاکستان ان کو انڈیا کے خلاف استعمال کرے گا اور میمو سکینڈل میں مبینہ طور پر امریکہ کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ ۔۔ 

ایک اور اہم ترین بات ذہیں میں رکھیں۔

65ء میں انڈین فوج نے “چھپ کر” صرف وہی پیش قدمی کی تھی جو وہ پاک فوج کی غیر موجودگی میں کر سکی تھی۔( اسی لیے انہیں انڈین بارڈر کے قریب واقع تھانہ برکی کے پاس کچھ تصویریں نکالنے کا موقع مل گیا تھا جو آج تک شیر کرتے ہیں )۔ جبکہ پاک فوج نے جنگ شروع ہونے کے بعد انڈین علاقوں میں پیش قدمی کی تھی اور باقاعدہ انڈین فوج کو پیچھے دھکیلا تھا۔

سچائی یہ ہے کہ اس جنگ کے بارے میں پاکستان کے خلاف انتہای ڈھٹائی سے اور مسلسل جھوٹ بولے جا رہے ہیں ۔ آپ آج بھی گوگل سرچ کریں تو اس کے سرچ ریزلٹس میں ٹاپ پر آپ کو ” ویکیپیڈیا ” دکھائی دے گا اور دوسرے میں ” گوگل نیوز” جو چن چن کر پاکستانی اخبارات کے صرف وہ تراشے اور مضامین دکھا رہا ہوگا جو ان ” انڈین پاکستانیوں” کے لکھے ہوئے ہیں جنکو اب تک یقین نہیں آرہا کہ ڈھائی لاکھ پاک فوج نے 7 لاکھ انڈین فوج کے اچانک حملے کو ناکام کیسے بنا دیا۔

یہاں ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ انڈینز فیس بک، گوگل اور ویکیپیڈیا پر چھائے ہوئے ہیں اور تینوں کی پالیسیاں انڈین مفادات کے تابع ہیں۔ بلاشبہ اس معاملے میں دشمن ہم پر حاوی ہے۔

پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار جاری ہے ۔۔۔ !

تحریر شاہدخان!


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here