امیر البحر کا خواب۔ پاکستان ساختہ ہتھیار

0
24

چین پاک اقتصادی راہداری نے پاک بحریہ کی اہمیت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کردیا ہے اور حکومتِ پاکستان نے اس کی اہمیت کو اس طرح محسوس کیا ہے کہ ہم اقتصادی راہداری کی حفاظت کیلئے جو پاک بحریہ کی ضروریات ہیں، اُن کو ترجیحی بنیادوں پر پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں.

پچھلے ایک سال سے کراچی شپ یارڈ میں کسی نہ کسی نئے فریگیٹ ، میزائلوں اور گن شپ سے آراستہ جہازوں کو، ایندھن پہنچانے یا میڈیکل سہولتیں فراہم کرنے والے جہاز یا میری ٹائم سیکورٹی اسلحہ سے لیس گشتی جہازوں کی تیاری کا مرحلہ شروع ہوا، جس کی بنیاد رکھنے کی تقریب مہمانِ خصوصی امیر البحر ایڈمرل محمد ذکاءاللہ صاحب نے رکھی تھی۔

اس شپ یارڈ کی یہ خصوصیت سامنے آئی ہے کہ اس کے انجینئرز اور اس کے کارکن اس جانفشانی سے کام کرتے ہیں کہ ہر دیئے گئے کام کو کئی ماہ پہلے بغیر کسی خامی یا کوتاہی کے بغیر مکمل کر لیتے ہیں۔ ایڈمرل ذکاءاللہ نے اس موقع پر تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ایسا جہاز جو خود پاکستانی ساختہ ہو، کا خواب وہ کئی برسوں سے دیکھ رہے تھے اور اللہ کے حکم سے وہ آج پورا ہوا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ کام شپ یارڈ حسبِ روایت بغیر کسی خامی کے وقتِ مقررہ سے پہلے مکمل کرنے کی روایت کو برقرار رکھے گا۔ ایڈمرل حسن ناصر شاہ کا وہ تاریخی جملہ ہمیشہ یاد رہے گا جب انہوں نے 2016ء میں ایک جدید جہاز کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ ہے پاکستان کی خودانحصاری اور خود مختاری کا ایک نمونہ کہ جب قومیں اپنے ہتھیار خود بنانے لگیں تو وہ خودمختاری کے مرحلے کو طے کر رہی ہوتی ہیں۔

اس تقریب میں قرآن حکیم کی سورۃ الانفال کی جو آیت تلاوت کی گئی وہ حسب موقع تھی ’’اور تیار کرو اُن کو لڑائی کے واسطے جو کچھ جمع کرسکو قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے کہ دھاک پڑے اللہ کے دشمنوں پر اور دوسروں پر اُن کے وہ جن کو تم نہیں جانتے اللہ جانتا ہے‘‘۔ تو پاکستان نے اپنے گھوڑے تیار کرنا شروع کردیئے ہیں۔

یہ تیز رفتار میزائل نمبر 4 کرافٹ نگہبانی کے لئے ریڈار، تلاش کرنے والے ریڈار، ESM اور سمندر میں سفری ریڈار سے مزین ہوگا، جس میں زمین سے زمین تک ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل نصب ہوں گے اور اس میں چف آر لانچر کے ساتھ 25ملی میٹر کی توپیں بھی لگی ہوں گی۔ یہ پاکستان کی ضرورت کے عین مطابق اور پاکستان ساختہ ہوں گی۔

اعلیٰ اور جدید ترین ریڈار اُس کی صلاحیت کو مزید تقویت دیں گے، ساری دُنیا کے امیر البحر کا یہ کہنا تھا کہ جو کوئی بھی سمندر پر حکمرانی کرے گا تو زمین پر حکمرانی اُس کی جھولی میں آ گرے گی، اگرچہ اس وقت دُنیا میں اس طاقت کو امریکہ بالادستی کے طور پر استعمال کررہا ہے مگر دوسرے ممالک اپنے ساحلی سرحدوں کی حفاظت اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کا کام لے رہے ہیں۔

پاکستان نے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے، منشیات و انسانی اسمگلنگ، قزاقوں سے راستوں کو محفوظ بنانے میں بہت نام کمایا ہے، اسی وجہ سے پاکستان کے سابقہ امیر البحر ایڈمرل ذکاءاللہ صاحب کو امریکہ نے لیجنڈ اور میرٹ کے اعزاز سے نوازا۔ یہ پاک بحریہ کی عالمی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بحریہ کی اہمیت کو سی پیک سے پہلے نہیں سمجھا گیا کیونکہ غیر منقسم ہندوستان میں جتنے فاتحین آئے تھے وہ زمین بند علاقوں سے آئے تھے اور بحریہ کی اہمیت سے ناآشنا تھے، اسی وجہ سے انگریز جو بحری قوت تھا، غیر منقسم ہندوستان کو اس نے اپنے قابو میں کرلیا۔ سلطنت عثمانیہ کے حکمران البتہ بحریہ کی بطور طاقت استعمال کرتے رہے اور اپنا سکہ کئی صدیوں تک منوائے رکھا۔

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کی تمام ضرورتوں کا احاطہ کرنے اور اس کے مطابق اقدامات کرنے کیلئے PIDC پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی اور اس نے کراچی شپ یارڈ کی بنیاد رکھی آج کراچی شپ یارڈ اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ خطے میں سب سے چھوٹا شپ یارڈ ہے اور جو آج بھی اپنی پوری استطاعت کے ساتھ کام کر رہا ہے، اس پر ایک ایڈمرل نے کہا کہ یہ قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس بات کو یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کو مزید شپ یارڈز کی ضرورت ہے۔

گوادر میں ایک بڑے شپ یارڈ کے قیام کی مکمل تیاری کرلی گئی ہے، اُس کی فائل تیار کر کے حکومت تک پہنچا دی گئی ہے۔ وزارت دفاعی پیداوار کا کہنا ہے کہ اس کے لئے انہیں کسی فنڈز کی بھی ضرورت نہیں ہے، اُن کی وزارت یہ شپ یارڈ بنانے کا کام بہ احسن و خوبی خود سر انجام دے سکتا ہے۔

یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے جب چارلس سندھ پر قبضہ کرنے کے لئے سمندر کے راستے منوڑہ پہنچے اور سردیوں تالپوروں کی حکومت تھی اور اُن کی بحریہ کے پاس یہ صلاحیت موجود نہیں تھی کہ وہ کراچی کا دفاع کر سکیں، چنانچہ ایک بحری افسر کو منوڑہ میں قتل کرکے انہوں نے کراچی کو فتح کر لیا تھا۔ اب وہی کراچی بحری قوت میں اضافہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور یہاں مسلسل بحری مشقیں ہورہی ہیں اور ایڈمرل ذکاءاللہ کی قیادت نے پاک بحریہ کی طاقت کا لوہا منوا لیا ہے۔

پاکستان اپنے دفاع کی قوس و قزح کے ہر رنگ کے دفاع کیلئے حالت تیاری میں ہے۔ یہ بحریہ جس کے کچھ کاموں سے ہمیں اس وقت آگاہی ہوئی جب ہمیں گوادر، اور شاہ پور بندر دیکھنے کا موقع ملا کہ بحریہ کس مستعدی کے ساتھ پاکستان کے دفاع میں ہمہ وقت حالت تیاری میں رہتی ہے۔ اس نے دور بے توجہی میں بھی پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ہمیشہ دریافت کرنے پر یہ ہی کہا کہ پاکستان کے ساحلوں کی حفاظت کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔

سی پیک کے بعد جیسے ہی ذمہ داری بڑھی اس نے خوش اسلوبی سے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، وہ دوسرے ایٹمی حملہ کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے یعنی آبدوز کے ذریعے دشمن پر حملہ کر کے اس کو نیست و نابود کرنا۔ اگر وہ ہماری زمیں پر حملہ کرنے کا انسان دشمن عمل کر چکا ہو۔

اسکے علاوہ ہماری پاک بحریہ اپنے تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کیلئے پوری دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here