امریکی سی آئی اے آئی ایس آئی کی طاقت سے بھی بخوبی واقف ہیں

0
1681

امریکی سی آئی اے آئی ایس آئی کی طاقت سے بھی بخوبی واقف ہیں سی آئی اے نے آئی ایس آئی میں اپنے جاسوس پیدا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مسلسل ناکامیوں کے نعد بالاخر سی آئی اے کو اس وقت ایک بہت بڑی کامیابی ملی جب آئی ایس آئی کے دو اعلٰی افسران نے سی آئی اے کے لیے کام کرنے کی حامی بھر لی.

سی آئی اے اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی. کچھ ہی عرصہ میں ان دو ایجنٹس نے سی آئی اے کا اس قدر اعتماد جیت لیا کہ افغانستان میں کی جانے والی کاروائیاں، پاکستان کے لیے تخلیق کردہ ٹی ٹی پی کے خارجیوں کے سربراہ حکیم اللہ محسود تک رسائی ان کے ٹھکانوں کے بارے تک ان کو معلومات مل گئیں یہی ایجنٹس دہشتگردوں اور سی آئی اے کے درمیان رابطوں کا کام بھی کرتے رہے.

انہی آئی ایس آئی کے ایجنٹس نے ایک دن سی آئی اے کو اطلاع دی کہ وزیرستان میں ایک مقام پہ افغان مجاہدین یعنی افغان طالبان ایک خفیہ میٹنگ کررہے ہیں. جہاں

افغانستان سے ایک بڑی تعداد میں مجاہدین اور انکے سربراہاں شرکت کریں گے اس لیے وقت رہتے ہی انکے خلاف کاروائی کی جائے. امریکی سی آئی اے نے خوشی سے نہال ہوکر انہیں شاباشی دی اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر فوراً اپنے ڈرون روانے کیے اور مطلوبہ مقام پہ میزائلوں کی بارش کردی جہاں موقع پہ موجود تمام لوگ مارے گئے. چند ہی گھنٹوں بعد جب میڈیا پہ بریکنگ نیوز چلیں تو سی آئی اے کی حالت دیکھنے والی تھی یہ بریکنگ نیوز ان کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہ تھی اور آئی ایس آئی، سی آئی اے کو چکماء دے گئی.

آئی ایس آئی نے جس خفیہ میٹنگ کی اطلاع سی آئی اے کو دی تھی وہ میٹنگ افغان مجاہدین کی نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرحکیم اللہ محسود کی سربراہی میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی تھی جہاں پاکستان میں دہشتگردی کی کاراوئیوں کے حوالے بات چیت جاری تھی. اس امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ سمیت کئی خارجی جہنم رسید ہوگئے اور سی آئی اے کو زبردست نقصان اُٹھانا پڑا. اس واقعے کے بعد امریکی سی آئی اے آج تک ان دو افراد کو پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہے.

پاکستان زندہ باد

پاکستان آرمی زندہ باد

پاکستان آئی ایس آئی زندہ باد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here