امریکی سفارتخانے کا ایک سیکنڈ سیکرٹری جس کا نام بوب تھا

0
195

امریکی سفارتخانے کا ایک سیکنڈ سیکرٹری جس کا نام بوب تھا، اسلام آباد کے 7/4 سیکٹر میں رہائش پذیر تھا۔ ہماری معمول کی نگراں ٹیم نے کئی بار ہمیں رپورٹ کیا کہ اکثر رات کے اندھیروں میں بہت سے خان اور ملک صاحبان پجارو اور دیگر بڑی بڑی گاڑیوں میں بوب کے گھر آتے جاتے ہیں۔ یہ اطلاع ہمارے لئے اس لئے اہم تھی کہ مسٹر بوب کا نام نہ تو آئی ایس آئی کے ساتھ افغانستان کے حوالے سے رابطہ افسران کی فہرست میں شامل تھا اور نہ ہی اس کا تعلق انسداد منشیات کے اسکواڈ سے تھا۔ اس لئے بوب ہمارے لئے ایک پراسرار شخصیت بن گیا۔ بوب کی بیوی تھی نہ بچے اور وہ گھر میں اکیلا رہتا تھااور مزید یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ وہ اکثر پاکستان سے باہر بھی جایا کرتا تھا۔
بہر حال بوب کے بارے میں ان اطلاعات کے بعد ہم نے اسے مستقل نگرانی میں لے لیا مگر ہمارے کارکن ساتھی ان کے گھر آنے جانے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں اور بوب کی آمدورفت کے علاوہ مفید معلومات حاصل کرلی ۔ ہم نے بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ بوب کے گھر میں جاسوسی کرنے والے خفیہ آلات نصب کردیئے جائیں تاکہ مہمانوں کے ساتھ اس کی گفتگو سنی جاسکے۔ یہ فیصلہ بڑا نازک تھا مگر اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ اس کے نتائج ہمیں کسی مصیبت میں بھی گرفتارکرواسکتے تھے، ہم یہ رسک لینے کے لئے تیار ہوگئے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
چنانچہ ایک دن جب بوب دفتر میں تھا۔ ہمارا ایک آدمی نہایت ہوشیاری سے اس کے گھر میں داخل ہوگیا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بوب کے بیڈروم اور سائیڈروم کی الماریوں میں انتہائی قیمتی اور جدید ترین رائفلیں ، پستول، بندوقیں اور کیمرے بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ایک باتھ روم میں چالو حالت میں ایک وائرلیس سیٹ بھی تھا۔ اسے بوب کے تکیے کے نیچے سے اس کا بٹوہ بھی ملا جو وہ شاید جانے کی جلدی میں بھول گیا تھا۔ اس بٹوے میں اس کا سی آئی اے کا شناختی کارڈ تھا۔ ہمارے آدمی نے سارے گھر کی تصاویر بنائیں کارڈ کی تصویر بھی بناکر اسے واپس اپنی جگہ رکھ دیا گیا اور خفیہ آلات لگاکر واپس آگیا۔ اب سوال یہ تھا کہ یہ سارے ہتھیار انسداد منشیات کے حوالے سے جمع کئے گئے تھے یا بوب خود ہتھیاروں کی تجارت میں ملوث تھا؟ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب تو نہیں تھا مگر بوب یقینا غیر قانونی دھندے میں ملوث تھا۔ ہم نے ایک تفصیلی رپورٹ تصاویر کے ساتھ جنرل کو اپنی اس رائے کے ساتھ بھجوادی کہ بوب کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا جائے۔ چند روز کے بعد ہمیں یہ جواب موصول ہوا کہ صدر پاکستان نے دفتر خارجہ سے اس معاملے میں مشورہ کیا ہے اور ہمارے دفتر خارجہ کا خیال ہے کہ ہمیں یہ سب بھول جانا چاہئے۔ اس وقت پاکستان میں اور بھی بہت سے ’’بوب‘‘ ہیں اور ہم سب کو دھکے دے کر ملک سے باہر نہیں نکال سکتے اور اس وقت امریکہ کو ناراض کرنا بھی مناسب نہیں۔ اس لئے آئی ایس آئی کو چاہئے کہ بوب پر اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ہمارے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل کا اس جواب پر ردعمل قابل ستائش تھا، وہ کسی صورت بھی دفتر خارجہ کے مشورے پر آنکھیں موندلینے کے موڈ میں نہیں تھے۔ ہم نے اس صورتحال کے بارے میں کئی روز تک تبادلہ خیال کیا، بہت سے راستے تلاش کئے، بالآجنرل نے کہا کہ ’’اس بات کو خفیہ رکھتے ہوئے کہ ہم اس سلسلے میں کارروائی کر رہے ہیں آپ جو چاہیں کیجئے مگر اس بات کا خیال رہے کہ کسی بھی کارروائی میں پکڑے جانے کا کوئی احتمال نہ ہو۔‘‘
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
جنرل صاحب کے اس حکم کے بعد ہم نے ایک تفصیلی منصوبہ تیار کر کے ان کی خدمت میں پیش کیا، جس کی انہوں نے منظوری دے دی۔یہ منصوبہ کچھ یوں تھا۔ بوب کے گھرکے پچھواڑے ایک چھوٹا سا غیر آباد زمین کا ٹکڑا تھا جس میں خودرو پودوں اور جھاڑیوں کی بہتات تھی۔ اسلام آباد میں ایسے کئی پلاٹ موجود ہیں۔ ہم نے اپنے منصوبے کے مطابق اس زمین پر بوب کے گھر کی بیرونی دیوار سے ملتی ہوئی ، ایک خندق کھودی اور اسے جھاڑیوں اور پودوں سے ڈھانپ دیا۔ ہم نے مقامی پولیس کو یہ اطلاع فراہم کی کہ ہم نے اسلام آباد کی سڑکوں پر رات کی تاریکی میں مشکوک لوگوں کو گھومتے ہوئے دیکھاہے۔ ہمیں شک ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی گروہ کسی بڑی واردات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ ہم نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ ہمیں شک ہے کہ مختلف وارداتوں میں استعمال کیا جانے والا اسلحہ بھی انہوں نے کسی جگہ چھپا رکھا ہے ۔ ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ مجسٹریٹ کی قیادت میں ایک چھاپہ مار ٹیم کو کارروائی کے لئے تیار کیا جائے۔ ہم نے وائرلیس سے مسلح آئی ایس آئی کے ایک کارکن کو پولیس کے ساتھ لگادیا تاکہ جب ہم کہیں وہ پولیس کو متوقع جائے واردات تک لے جائے۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
اس دوران ہم بوب کی حرکات و سکنات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ وہ اچانک پھر چند دنوں کے لئے پاکستان سے باہر چلا گیا اور منصوبہ روک دیا گیا۔ جب بوب واپس آیاتو کارروائی کا پروگرام اور وقت طے کرلیا گیا۔ حتمی کارروائی کے وقت نگران ٹیم کے ارکان کو منتخب جگہوں پر تعینات کردیا گیا۔ آئی ایس آئی کے کارکنوں نے ایک بار پھر خاموشی سے بوب کے گھر کے دروازے کھولے اور گھر کے اندر موجود سارا اسلحہ لاکر پہلے سے کھودی گئی خندق میں جمع کردیا۔ بوب اپنے معمول کے مطابق دفتر سے نکلا اور گھر کی جانب روانہ ہوا۔
ہم نے پولیس کو کارروائی کرنے کا اشارہ دے دیا۔ آئی ایس آئی کا کارکن پولیس پارٹی کو لے کر جائے واردات پر پہنچ گیا۔ پولیس پارٹی جب خندق تک پہنچی تو ان کی گاڑیوں کے شور نے پورے علاقے کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ اسی اثنائ میں بوب بھی پہنچ گیا، اور اپنی گاڑی گیراج میں کھڑی کرنے کے بعد شور سن کر باہر آگیا تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ اس کے گھر کے عقب میں کیا معاملہ درپیش ہے؟ وہاں کا منظر اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ پولیس اس کے گھر کے پچھواڑے سے اسلحہ برآمد کر رہی تھی۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ہتھیاروں کی فہرست بھی بنانا شروع کردی تھی، اپنے ہتھیار اور کیمرے دیکھ کر بوب کا رنگ فق ہوگیا اور وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے گھر کے اندر چلا گیا۔
ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓ
اس معاملے میں امریکی سفارتخانے کا ناطقہ بند کرنے کے لئے یہی کافی تھا۔ چنانچہ اگلے دو روز میں بوب پاکستان چھوڑکر چلا گیا۔
ہمارا اگلا شکار امریکی انٹرنیشنل اسکول اسلام آباد کا ایک استاد ریگن کلیگ تھا۔ وہ نہ صرف ہتھیاروں کی تجارت کرتا تھا بلکہ اس نے گھر میں ہتھیاروں کی ایک ورکشاپ بھی بنارکھی تھی۔ کلیگ سے نمٹنا ہمارے لئے کچھ مشکل نہ تھا۔ اس لئے کہ وہ سفارتکار نہیں تھا۔ ہم نے معمولی سی منصوبہ بندی سے اسے بھی قابوکرلیا اور وہ بھی پاکستان کی سرزمین سے اپنا ناپاک دھندا سمیٹ کر واپس جانے پر مجبور ہوگیا۔لیکن ہماری پاک سرزمین کے گلی کوچوں اور دفتروں میں واقعی اتنے بوب اور کلیگ پھر رہے ہیں کہ ان سب کا قلع قمع کرنا کسی ایجنسی کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کی حفاظت ہر پاکستانی کا فرض ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں بیٹھے ہر بوب اور کلیگ کو پہچانیں اور جہاں کہیں بھی شک ہو دشمن کے ایجنٹوں کا صفایا کریں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here