امریکی بحری بیڑے کی سب سے زیادہ توہین

0
564

امریکی بحری بیڑے کی سب سے زیادہ توہین

امریکی بحری جہاز کے لیے، کوریا کے ساحل پر جاسوسی کا مشن 1968 میں اسے قبضے اور لیے جانے اور بکھیڑا کھڑا ہونے کا موجب بن گیا تھا۔
بات یہ ہے کہ جب تک ریڈیائی اور ریڈیائی تکنیکی جاسوسی کے جدید ترین آلات کی موجودگی سے انکار نہیں کیا گیا تھا تب تک قریبی حلقے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ امریکہ کا جنگی جہاز “یو ایس ایس پوایبلو” جاسوسی کرنے والا جہاز ہے۔ باقیوں کے لیے یہ بحری نقشہ نویسی کرنے والا پرامن جہاز تھا۔

۔ 18 دسمبر 1967 کو اس کے کپتان لیٍٹیننٹ کمانڈر للائیڈ بووشیر کو خفیہ حکم ملا تھا۔ “پوایبلو” کے ذمے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کی نگرانی اور جاسوسی کا کام لگایا گیا تھا۔ ساتھ ہی یہ کہ خلیج تسوسمسک میں موجود سوویت یونین کے بحرالکاہل کے بیڑے پر نگاہ رکھے اور بحیرہ جاپان و خلیج تسوسمسک میں، امریکی جہاز کی موجودگی پر شمالی کوریا اور سوویت یونین کے ردّعمل کا جائزہ لے۔

۔ 23 جنوری کو شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے نزدیک آتے ہوئے امریکی جہاز والوں کی توجہ شمالی کوریا کے چھوٹے تباہ کن جہاز کی جانب مبذول ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے شمالی کوریا کے چار تارپیڈو بردار جہاز “پوایبلو” کی جانب بڑھتے چلے آ رہے تھے۔ فضا میں شمالی کوریا کی فضائیہ کے جنگی طیارے محو پرواز تھے۔

کوریا والوں نے اشاروں سے دریافت کیا کہ یہ جہاز کس ملک کی ملکیت ہے۔ بوشیر نے جواب میں “بحری نقشہ نویسی کا کام چل رہا ہے” کا اشارہ دینے کا حکم دیا تھا۔

جواب نہ پا کر شمالی کوریا کے کپتان نے اشارہ دیا تھا:”آگے بڑھنے سے رک جاؤ، ورنہ نشانہ بنائے جاؤ گے” اس کے بعد “پوایبلو” پر امریکی پرچم بلند کیا گیا تھا لیکن آگے بڑھنے کے عمل کو نہیں روکا گیا تھا۔

امریکیوں کا کہنا تھا کہ “پو ایبلو” ساحل سے پندرہ اعشاریہ آٹھ میل دور یعنی آزاد پانیوں میں تھا، جب کہ شمالی کوریا کا دعوٰی تھا کہ جہاز شمالی کوریا کے علاقائی پانیوں میں “گھس” آیا تھا۔

کچھ دور تعاقب کرنے کے بعد کوریا والوں نے انتباہی گولے داغے تھے اور اس کے بعد امریکی جہاز کے عرشے کو نشانہ بنایا تھا۔ “پاایبلو” رک گیا تھا۔ اس اثناء میں اس کے عملے نے خفیہ دستاویزات جلا ڈالی تھیں اور کوشش کی تھی کی کہ جاسوسی کے آلات کو ناکارہ بنا دیں لیکن جہاز پر ایسے آلات کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ ان سے جان ایک ہی صورت میں چھڑوائی جا سکتی تھی کہ جہاز کو ڈبو دیا جاتا۔ کپتان بوشیر نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کھلے پانیوں میں شمالی کوریا سے چھپ نہ سکنے کی وجہ سے “پوایبلو” کے عملے نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے۔

امریکی صدر لنڈن جانسن بپھر گئے تھے۔ فوری طور پر جوہری طیارہ بردار جہاز “انٹرپرائز” کی سرکردگی میں امریکی بحری بیڑے کے طیارہ برداروں کا ایک جھنڈ شمالی کوریا کے ساحلوں کے نزدیک بھجوا دیا گیا تھا۔ لامحالہ سوویت یونین کی بحریہ کے بحرالکاہل کے بیڑے میں شامل جنگی جہاز بھی جو وہاں موجود تھے حالات کا دلچسپی کے ساتھ جائزہ لے رہے تھے۔

امریکی سیکیورٹی ایجنسی اور امریکہ بحریہ کی سلامتی کے گروپ کو بہت خطرہ محسوس ہوا تھا کہ جو خفیہ دستاویزات اور جاسوسی کے آلات شمالی کوریا کے ہاتھ لگے ہیں وہ جلد ہی ماسکو میں ماہرین کے پاس ہوں گے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ بہت کچھ ان کے پاس بھیجا گیا تھا۔ “پوایبلو” سے ملنے والے آلات کے طفیل سوویت خفیہ تحریر شناسوں نے امریکی بحریہ سے دیے گئے دس لاکھ سے زیادہ پیغامات کھول لیے تھے۔

جاسوسی جہاز پکڑے جانے کے بعد شروع کے دنوں میں امریکی سرکاری اہلکاروں نے بہت زیادہ دھمکی آمیز بیانات دیے تھے اور مطالبہ کیا تھا کہ جہاز و عملے کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے اور شمالی کوریا کے حکام معذرت بھی کریں۔

پیانگ یانگ نے جواب میں کہا تھا کہ جب تک امریکی حکام شمالی کوریا کے علاقائی پانیوں میں اپنے جہاز کی موجودگی اور جاسوسی کرنے کی سرگرمی کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک عملے کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ نے دھمکائے جانا جاری رکھا تھا۔ جنوبی کوریا میں نئے فوجی دستے بھجوائے جاتے رہے اور امریکہ میں محفوظ فوجیوں کو واپس بلانا شروع کر دیا گیا تھا۔ یوں لگنے لگا تھا جیسے شمالی کوریا پر حملہ بس ہونے ہی والا ہے۔ دو ہفتوں تک ایسا ہوتا رہا تھا تاوقتیکہ امریکہ سمجھ نہیں گیا تھا کہ شمالی کوریا جو پہلے ہی امریکہ سے ایک جنگ سہہ چکا ہے، کو ڈرایا جانا ممکن نہیں ہے۔ اور کسی جاسوس جہاز کی وجہ سے ایک ایسا تصادم شروع کیا جانا بے عقلی ہوگی جس میں سوویت یونین اور چین کے ملوث ہونے سے بچنا دشوار ہو۔

امریکی بحری فوجی تقریبا” ایک سال شمالی کوریا میں قید رہے تھے۔ کہیں دسمبر 1968 کو جا کر امریکی حکومت نے شمالی کوریا کی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے سرکاری طور پر معذرت خواہی کے بعد “پوایبلو” کے عملے کو گھر لوٹنے دیا جائے۔

۔ 23 دسمبر 1968 کو امریکی بحریہ کے ملازموں کو امریکہ اور حکومت جنوبی کوریا کے نمائندوں کے حوالے کیا گیا تھا۔

جہاز “پوایبلو” شمالی کوریا میں ہی رہا۔ کچھ عرصے تک اسے بندرگاہ بونسانا پر لنگر انداز رکھا گیا تھا اور پھر اسے پیانگ یانگ لے جایا گیا تھا، جہاں 1995 سے وہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے دیکھنے والی چیز بنا ہوا ہے۔ اب تک اسے دیکھنے والوں کی تعداد دس لاکھ افراد ہے۔
۔ 47 سال سے توہین جاری کیوں ہے اس بارے میں یہ کہ “پوایبلو” کو امریکی بحریہ کی فہرست سے خارج نہیں کیا گیا اس لیے یہ جہاز آج بھی امریکی بحری بیڑے کا حصہ ہے جو کسی دوسرے ملک کے قبضے میں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here