افغانستان میں بدامنی کس کی ضرورت ؟

0
104

افغانستان میں بدامنی کس کی ضرورت ؟

افغانستان میں بدامنی کا سب سے زیادہ اور براہ راست نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اکثرو بیشتر خود افغانستان سے بھی زیادہ۔

اس لیے دنیا میں اگر کوئی ایک ملک افغانستان میں امن کا خواہشمند ہوگا تو وہ پاکستان ہی ہوگا۔

البتہ دو ممالک ایسے ہیں جن کے اس خطے میں تمام تر مفادات افغانستان میں بدامنی سے وابستہ ہیں۔ پہلا امریکہ اور دوسرا انڈیا۔

امریکہ اپنے گرینڈ سٹریٹیجک آبجیکٹیوز حاصل کیے بغیر افغانستان نہیں چھوڑ سکتا اور اس کے پاس افغانستان میں قیام کا اکلوتا جواز وہاں کی ” بدامنی” ہے۔

انڈیا افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور پی ٹی ایم کی شکل میں شورشوں اور بغاوتوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انڈیا صرف تب تک افغانستان میں ٹک سکتا ہے جب تک افغانستان میں بدامنی ہے اور اتحادی افواج وہاں موجود ہیں۔ اس لیے انڈیا کو بھی افغانستان میں بدامنی کی ضرورت ہے۔

اب ذرا پچھلے دو ماہ کے دوران ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈالیے۔

مئی کے اواخر میں افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، انٹیلی جنس ادارے ’این ڈی ایس‘ کے سربراہ معصوم استنکزئی، فوج کے سربراہ محمد شریف یفتالی اور وزیر داخلہ واعظ برمک پاکستان کا اہم دورہ کیا اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان وفد سے کہا کہ طویل تنازعات سے دونوں ممالک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مل کر خطے میں امن کا راستہ تلاش کریں۔

صدر اشرف غنی نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورہ افغانستان کی دعوت دی۔

دورے کے دوران آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی سے ون آن ون ملاقات کی۔ جنرل قمر باجوہ نے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور کمانڈر اتحادی فوج جنرل جان نکلسن سے بھی ملاقات کی۔

افغان صدر نے بھی جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

ان پاک افغان ملاقاتوں کے دوران اور بعد میں کیا کچھ ہوتا رہا؟

افغان حکومت اور افغان طالبان میں عارضی جنگ بندی ہوئی جس کو پاکستان نے خوش آئند قرار دیا۔

حکومت پاکستان کا پی ٹی ایم کے ساتھ جرگہ ہوا جس کے بعد پی ٹی ایم نے اپنا جلسہ ملتوی کر دیا۔

جنرل باجوہ کے دورے کے فوراً بعد امریکہ نے کنٹر میں بیٹھے ٹی ٹی پی کے امیر اور انڈیا کے سب سے اہم مہرے ملا فضل اللہ کو حملہ کر کے ہلاک کردیا۔ خیال رہے اس سے پہلے بارہا پاکستانی اینٹلی جنس اداروں کی نشاندہی کے باؤجود امریکہ فضل اللہ کو نشانہ نہیں بنا رہا تھا۔

افغان حکومت نے فوری طور پر نہ صرف فضل اللہ کی ہلاکت تصدیق کی بلکہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو خود فون کر کے اس سے آگاہ بھی کیا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ کا یہ حملہ پاک افغان مشترکہ دباؤ کا نتیجہ تھا۔

لیکن دوسری جانب عین اس وقت جب افغان طالبان جنگ بندی کا فائدہ اٹھا کا عوام سے عید مل رہے تھے ان پر داعش نے دو جگہ خودکش حملہ کر دئیے جس میں درجنوں افغان طالبان اور عام افغان شہری شہید ہوگئے۔

ان حملوں کے فوراً بعد افغان طالبان نے جنگ بندی میں مزید توسیع سے انکار کر دیا۔

افغان طالبان کی جنگ بندی سے انکار کی اس خبر کو سب سے پہلے وائس آف امریکہ اور بی بی سی نے نشر کیا۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی سمیت کئی افغان لیڈرز کے مطابق افغانستان میں داعش کو امریکہ براہ راست کنٹرول کر رہا ہے حتی کہ ان کی نقل و حمل بھی امریکن ہیلی کاپٹرز میں ہوتی ہے۔ اسی طرح انڈیا اور داعش کے گٹھ جوڑ کی خبریں اور اجیت ڈاؤول کے داعش کے ساتھ روابط بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

سیدھی سی بات ہے۔

افغان قیادت اور پاک فوج افغانستان میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں کیونکہ دونوں کو اس کی ضرورت ہے۔ لیکن ان کوششوں کو افغانستان میں موجود امریکی اور انڈین سپانسرڈ دہشت گرد تنظمیں سبوتاژ کررہی ہیں۔

کیونکہ امریکہ اور انڈیا کو افغانستان کا امن کسی صورت قبول نہیں زبانی جو مرضی وہ دعوے کرتے رہیں۔

افغان طالبان چاہیں تو افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں امریکہ و انڈیا کی بدنیتی دنیا پر واضح کر سکتے ہیں۔ افغان طالبان مطالبہ کریں کہ ” ہم افغان فورسز کے خلاف اپنی کاروائیاں بند کر سکتے ہیں اگر افغان فورسز ہمارے ساتھ ملکر داعش کے خلاف مشترکہ آپریشنز کریں جس میں ہمیں “پاکستانی ڈرونز” کا تعاؤن حاصل ہو ” ۔۔۔

دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا۔

افغانیوں کا آج بھی پاکستان سے بڑھ کر خیر خواہ کوئی دوسرا نہیں۔ یہ بات افغانستان کو سمجھنی ہوگی۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here