اتنے بڑے ایونٹ پر پیپلز پارٹی کی جانب سے ہو کا عالم ہے

0
133

اتنے بڑے ایونٹ پر پیپلز پارٹی کی جانب سے ہو کا عالم ہے 

کیوں ؟؟؟

کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ نواز شریف کی سزا پر عمل درآمد ہوا تو یہ سلسلہ کہیں نہیں رکنے والا اور جلد یا بدیر انکی باری آنے والی ہے بلکہ کراچی میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ابھی سے جاری ہے ۔

یہ بات یاد رکھی جانی چاہئے کہ پیپلز پارٹی نے نواز شریف کو بچانے کی پوری کوشش کی تھی اور خورشید شاہ کا یہ بیان بھی کہ  اگر ہماری مان کر نواز شریف معاملہ پارلیمنٹ کے اندر رکھتے یہ ان کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا 

فضل الرحمن کا تاحال کوئی بیان میری نظروں سے نہیں گزرا۔ تقریباً پیپلز پارٹی والا ہی معاملہ ہے۔

لیکن سب سے دلچسپ ردعمل جماعت اسلامی والوں کا رہا۔

سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی والے کھل کر اپنی تکلیف کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ان کے امیر سراج الحق اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بیک وقت پانامہ کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں لیکن ساتھ ہی دبے دبے لفظوں میں فیصلے پر تنقید بھی کر رہے ہیں کہ ” ایک فرد کو سزا دینے سے کہیں انتخابی عمل متاثر نہ ہوجائے اور جمہوریت کو کوئی نقصان نہ پہنچے” اور ” پانامہ کے باقی 400 لوگوں کے خلاف کیسز کیوں نہیں چل رہے ؟؟؟

اس احمق سے کوئی پوچھے کہ باقیوں کے خلاف کیسز کس نے دائر کیے ہیں؟ کون پیروی کر رہا ہے ؟ اور کیسے کر رہا ہے ؟؟؟

مذہبی سیاسی جماعتوں کے علاوہ اس فیصلے پر سب سے زیادہ تکلیف لبرل طبقے کو ہوئی ہے ان کے ٹویٹس اور کمنٹس چیک کیے جا سکتے ہیں۔

بڑے صحافیوں میں حامد میر، طلعت حسین اور کامران خان نے فیصلے پر طنزیہ تبصرے کیے ہیں۔

احتساب کے اس عمل کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنانے والوں کو یاد رکھیں۔

اور آخر میں عمران خان سمیت ان سب پاکستانیوں کو سلام جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس جنگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

سیاست دانوں میں صرف عمران خان ہی اس احتسابی عمل کو لے کر آگے چل سکتا ہے۔ عمران خان ہی نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کو گھسیٹ سکتا ہے یہ اس نے ثابت کر دیا ہے۔

وہ ڈیم بنوا کر دے سکتا ہے،
قرض لینے کے بجائے واپس کرنے کا عمل شروع کروا سکتا ہے،
اور پرچی پڑھے بغیر امریکہ اور دنیا سے افغانستان اور دہشت گردی پر بات کر سکتا ہے۔

مجھے انتخابی عمل سے سخت نفرت ہے۔ لیکن اگر ناگزیر ہے تو یاد رکھو تم لوگوں نے عمران خان اور بدمعاشیہ میں سے کسی ایک کو چننا ہے۔
بدمعاشیہ کے پاس کوئی سا بھی جھنڈا ہوسکتا ہے۔ ن لیگ، ایم ایم اے، پی پی پی، اے این پی یا ایم کیو ایم۔ لیکن درحقیقت یہ ایک ہی بڑی جماعت کے مختلف نام ہیں۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here