آپریشن دوارکا 1965 کی جنگ میں بھارت کی بحری شکست

0
63

“آپریشن دوارکا” 1965 کی جنگ میں بھارت کی بحری شکست۔۔!!
——————————————————————————
۔ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس روز انڈیا نے تمام عالمی قوانین و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان پر اچانک حملہ کردیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے بڑے سائز اور پھر اچانک حملے کی بدولت پاکستان پر حاوی ہوجائے گا۔

بھارتی جنرل نے تو یہ’’ بڑھک‘‘ بھی ماردی تھی کہ وہ شام کو لاہور جمخانہ میں ہونگے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ پاک فوج ہی نہیں پاکستان کے عوام بھی ان کے مذموم عزائم کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔ اس جنگ میں جس طرح لاہور ،چونڈہ او ر چھمب جوڑیاں سیکٹر میں عوام نے اپنے فوجی بھائیوں کے شانہ بشانہ رہ کر دشمن کے دانت کھٹے کرنے میں کردار اد ا کیا اس سے دشمن سمیت دنیا بھر کو یہ پیغام مل گیا کہ پاک فوج اور عوام ایک ہیں۔

ایک طرف پاکستان کی بری اور فضائی افواج دشمن پر اپنی بالادستی تسلیم کرارہی تھیں ،تو دوسری طرف پاک بحریہ بھی کسی سے پیچھے نہیں تھی۔بری اور فضائی افواج کے مقابلے میں دونوں ملکوں کی بحریہ کا تناسب اور بھی خراب تھا۔اگر بھارت ہماری بری اور فضائی افواج کے مقابلے میں آٹھ سے دس گنا زائد طاقت کا حامل تھا تو بحری افواج میں یہ تناسب اس سے بھی زیادہ تھا۔لیکن اس کے باوجود پاک بحریہ نے بھی اس جنگ میں بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی تاریخ رقم کی۔ پاک بحریہ کے پاس تو اب تک طیارہ بردار جہاز نہیں ہے، لیکن بھارتی بحریہ 1965میں بھی طیارہ بردار جہاز سے لیس تھی ،جس کا نام وکرنت تھا۔

بھارت کے بڑے بحری بیڑے کے مقابلے میں پاک بحریہ کے پاس گنے چنے جہاز تھے اور صرف ایک آبدوز غازی تھی۔لیکن اپنے نام کی طرح اس آبدوز نے اس جنگ میں غازی رہ کر وہ کارنامہ انجام دیا کہ دنیا اس پر حیران ہوئی۔زمینی اور فضائی حملوں میں پہل کرنے کے برعکس بھارتی بحریہ نے ابھی حملہ نہیں کیا تھا۔لیکن دشمن کے عزائم سامنے آچکے تھے ،چنانچہ پاک بحریہ نے دشمن کو یہ موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ تعداد اور بحری بیڑے کے لحاظ سے دشمن کی سبقت واضح تھی، لیکن مسلمانوں کی تو یہ شان رہی ہے کہ وہ ہمیشہ سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمنوں کو دھول چٹاتے رہے ہیں، سو پاک بحریہ نے بھی اپنے بری اور فضائی بازوؤں کی طرح اس تاریخ کو دہرایا۔

بیڑے میں شامل واحد آبدوز غازی کو بھارتی بحریہ کے ہیڈکوارٹر بمبئی کے قریب نگرانی کے لئے تعینات کردیا گیا۔اس تعیناتی کا مقصد بھارتی بیڑے کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا تھا ،لیکن قوم کی دعاؤں اور رب العالمین کی مدد سے اس اکیلی آبدوز نے دشمن کوعملی طور پر بمبئی میں ہی محصور کردیا۔ اسے اپنے بِل سے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ دیا

۔1965کی جنگ میں بہت سے معجزے ہوئے اور یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ غازی نے دشمن کے دلوں پر ایسی دھاک بٹھائی کہ بھارتی بحریہ کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ یہ کون سی فورس ہے جو اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی ہے۔ بھارتی بحریہ کے ایک جہاز نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو غازی سے اس پر تارپیڈو داغے گئے ،جس سے بھارتی جہازمیں آگ لگ گئی۔ اس حملے نے بھارتی بحریہ کے رہے سہے حوصلے بھی توڑ دیئے اور وہ دو ہفتوں کی جنگ کے دوران کھلے سمندر میں نکل کر مقابلہ کرنے یا پاک بحریہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ کرسکی۔ غازی آبدوز نے تن تنہا بھارتی بیڑے کا محاصرہ کئے رکھا اور اسے باہر نکلنے نہ دیا۔

دوسری جانب پا ک بحریہ کے جہازوں نے کموڈور ایس ایم انور کی زیرقیادت معرکہ ’’دوارکا‘‘ کرکے دشمن کے چھکے چھڑادئیے۔ دوارکا میں بھارتی بحریہ کا ریڈارسٹیشن اور فضائی اڈہ تھا۔ پاک بحریہ کے جہازوں پی این ایس بابر،پی این ایس بدر،پی این ایس خیبر ،پی این ایس جہانگیر ،پی این ایس عالمگیر،پی این ایس شاہجہاں اور پی این ایس ٹیپو سلطان نے اس بھارتی بحری اڈے پر مشترکہ حملہ کیا۔

سات اور آٹھ ستمبر کی درمیانی شب کئے گئے اس حملے کی دشمن کو قطعی توقع نہیں تھی۔ اس اچانک حملے سے وہ بوکھلا گیا۔پاک بحریہ کے جہازوں نے بڑی آسانی سے دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بغیر کسی نقصان کے واپس اپنے پانیوں میں آگئے۔اس حملے نے دشمن کے اوسان خطا کردئیے۔ اس کی بحری افواج کے حوصلے پست ہوگئے اورپاک بحریہ کی دھاک بیٹھ گئی۔یہی وجہ ہے کہ وہ دو ہفتوں کی جنگ کے دوران بحری محاذ پرکسی کارروائی کی جرأت نہ کرسکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here