آج ہم بات کریں گے پاکستان اور خصوصا پاک آرمی کیخلاف بات کرنے والے خرامیوں اور انکی اقسام کی

0
134

آج ہم بات کریں گے پاکستان اور خصوصا پاک آرمی کیخلاف بات کرنے والے خرامیوں اور انکی اقسام کی۔

اور ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے ہمارے بہت سے پاکستانی بھائی بھی ان کے بارے میں جان سکیں گے۔

ان خرامیوں کو تین اقسام میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

1۔تکفیری خارشی
2۔نام نہاد آزادی پسند (اکثریت ہندو اور انڈین )
3۔سیاسی جمہورے

ان میں جو پہلے دونوں اقسام کے لوگ ہیں انکا مقصد پاکستان سے منصوب ہر چیز کو خراب اور پراپیگنڈہ والے انداز میں پیش کرنا جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک پاکستان کی ایک بھدی سی اور ناکام ریاست کی تصویر پیش کی جاسکے۔
اور تیسری قسم کے لوگ صرف فوج عدلیہ کے ساتھ اور پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں کیساتھ عداوت رکھتے ہیں ۔لیکن ان میں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو بے خبری میں ایسا کرریے ہوتے ہیں۔لیکن جب سمجھایا جاتا ہے تو الحمداللہ وہ سمجھ جاتا ہیں۔

ان سے ہمارا اتنا مسئلہ بھی نہیں لیکن جو اصل مجرم اور خرامی کے بچے ہیں وہ دونوں پہلی اقسام سے تعلق رکھتے ہیں۔
آئیے اب باری باری انکا آپریشن کرتے ہیں اور انکا طریقہ واردات اور علاج بیان کرتے ہیں۔

پہلی قسم کے لوگ یعنی خارشیوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو بندا بھی انکے نظریات کو نا مانے اسے یہ بلا تحقیق اور بلا جواز کافر مرتد قرار دے دیتے ہیں ۔مثال کے طور پر انہوں نے پاکستان حکومت اور آرمی کو مرتد قرار دیکر انکے خلاف خروج کا اعلان کیا اور تحریک ظالمان کے نام سے خارجیوں کا ایک گروپ بنایا اور باقاعدہ اعلان فساد کے نام پر مسلمانوں کو ہی گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کیا۔انہیں افغانستان میں امریکی فوج اور صلیبی نظر نہیں آئے لیکن پاکستان میں آسان ٹارگٹ مل گیا یعنی قبائلی غیرت مند ہمارے پختون بھائی اور پاکستان کی باقی کی عوام۔
اور کبھی دس دھماکے اور کبھی پندرہ پندرہ دھماکے یہ معمولی طور پر کرنے لگے۔آرمی نے بہت صبر کیا ان سے مذاکرات کیے لیکن ناجی یہ باز آنے والے کہا تھے۔
یہاں پر ایک بات اور واضح کرتا چلو یہ جتنے بھی نام نہاد جہادی گروپ تھے پاکستان میں انہوں نے آج تک نا ہی کبھی امریکہ کیخلاف جہاد کیا اور ناہی کبھی انڈیا یا اسرائیل کے حوالے سے اپنا کوئی واضح موقف بنایا ۔سوائے عام مسلمانوں کو ہٹ کرنے کے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ انڈیا امریکہ کے پٹھوں ہیں۔اور اب تو انکے اپنے بندے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر ہمیں پاکستان کیخلاف لڑنے کیلیے اسرائیلی بھی سپورٹ کریں تو بھی ہم انکی سپورٹ سے پاکستان کیخلاف لڑیں گے۔

اور طرح طرح کے یہ الزامات پاک آرمی پر لگائیں گے۔
ایک بات یہ شدو مد سے کہیں گے کہ پاک آرمی نے وزیرستان میں آپریشن کیا امریکہ کے کہنے پر اور امداد ملی اسی چیز کی پاکستان کو ۔
لیکن اگر آپ زمینی حقائق کو دیکھیں تو انکی باتیں آپکو بکواس لگیں گی۔
آپ ان سے یہ پوچھیں کہ پاک آرمی کا تحریک ظالمان کیخلاف آپریشن کا افغان مجاھدین کو کوئی نقصان ہوا ہو تو بتائیے۔یہ گوگل تو کیا گوگل سے بھی کسی بڑی چیز پر دماغ کھپالیں جو مرضی کرلیں انہیں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملے گا جس سے یہ ثابت کرسکیں کہ شمالی وزیرستان یا جنوبی وزیرستان آپریشن سے افغان طالبان کو کوئی نقصان پہنچا ہو؟؟؟
افغان مجاھدین تقریبا 75% فیصد افغانستان پر قابض ہیں اور بہت شدت سے مزاحمت کررہے ہیں اور تقریبا امریکی یہ جنگ ہار چکے ہیں ۔
یہ سب سے بڑا ثبوت ہے کہ پاکستان کے آپریشنز کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور طالبان جو اصل مجاھدین ہیں وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں افغانستان میں جیسے پہلے تھے۔یہ خوارج اور کافروں کے ایجنٹ تھے انکا مارنا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور بیشک پاک آرمی نے اس کارخیر کو انجام دیکر اللہ کے احکامات کی پیروی کی۔

اب آتے ہیں دوسری قسم کے نام نہاد آزادی پسندو کی طرف

انکے بارے میں تقریبا سب کو ہی پتا ہے کہ یہ کیا فلمیں ہیں کہاں سے آتی ہیں۔
اور تقریبا یہاں پر سب انکا علاج کرنا جانتے ہیں۔پر پھر بھی یاد دلادیں کہ یہ سارے زیادہ تر انڈین ہیں یا افغانی ہیں جنکو سی پیک اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب دیکھنے کی بہت زیادہ خواہش رہتی ہے اور اسکے لیے یہ سب مل کر کام کررہے ہیں۔
اور جبکہ آرمی بارڈر کو سیل کرکے انکا علاج کرنے جارہی ہے ۔وہ دن دور نہیں جب انکا یعنی افغانی خاص کر فارسیبانوں کا ایسا مکو ٹھپا جائے گا کہ یہ پاکستانی ویزے کیلیے ترسا کریں گے ۔
انشاءاللہ.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here