آئی ایس آئی، امریکہ کی دشمن کیوں

0
1616
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئی ایس آئی، امریکہ کی دشمن کیوں
افغان بادشاہ ظاہر شاہ نے 1933ء سے 1973ء تک چار عشروں پر محیط طویل حکومت کی۔ ان کے آخری چند سال وہاں پر اسلام پسند نوجوان کی تحریک اور کمیونسٹوں کے درمیان کشمکش انتہاء پر تھی۔ یہاں سے افغانستان میں بے چینی کی بنیاد پڑی، جو 1973ء میں بادشاہ کی معزولی اور جلا وطنی پر منتج ہوئی۔ اس لحاظ سے افغانستان پچھلے چالیس سال سے جنگ کی سی کیفیت سے گذر رہا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیاء کے سنگم پر واقع افغانستان کی پاکستان کے ساتھ 2,640کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے افغانستان کا پاکستان پر انحصار اسی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے حالات ایک دوسرے پر براہ راست اور بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

ظاہر شاہ کی چالیس سالہ حکومت کے آخری چھ سات سالوں میں وہاں پر سویت یونین کا اثر رسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا اور 1979ء کے اختتام سے چار دن قبل اس کے ایک لاکھ تک فوجی ٹینکوں اور جنگی جہازوں کے ساتھ داخل ہوئے۔ اسی روز سویت یونین کے حمایت یافتہ پرچم پارٹی کے سربراہ نے ایک اور کمیونسٹ رہنماء حفیظ الامین کی حکومت کا تختہ الٹا۔ اس انقلاب میں معزول صدر ہلاک ہو گیا۔ سویت افواج کی مداخلت کے ساتھ افغان بحران عالمی شکل اختیار کر گیا۔ وہاں مجاہدین اور سویت یونین کے درمیان گوریلا جنگ شروع ہو گئی۔ پاکستا اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔ سیاسی اور سفارتی سطح سے ہٹ کر افغانستان 3 ممالک جن میں دو سویت یونین اور پاکستان شامل تھیں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا میدان جنگ بنا۔ تیسری انٹیلی جنس امریکہ کی تھی۔

1980ء سے امریکی سی آئی اے، سویت ایجنسی کے جی بی اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے درمیان ایک تکون بن گئی تھی۔ آئی ایس آئی، اور سی آئی اے ایک طرح سے حلیف ایجنسیاں تھیں اور کے جی بی ان کی حریف تھی۔ آئی ایس آئی کو ایک طرف کے جی بی سے لڑنا تھا تو دوسری جانب سی آئی اے سی بھی بچ کر رہنا تھا۔ یہ ایک طرح کی proxy war (بالواسطہ جنگ) تھی۔ نو سال بعد جب 1989ء میں سوویت افواج افغانستان سے نکل رہی تھیں تو آئی ایس آئی اور سی آئی اے فاتح ایجنسیوں کے طور پر ابھریں۔ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ سویت یونین تحلیل ہو کر 15 ممالک کی صورت میں بکھر گیا۔ امریکہ دنیا کی سپر پاو کے ساتھ ساتھ تھانیدار بھی بن بیٹھا۔ اس کی سی آئی اے کی تھانیداری بہر حال پاکستان کی آئی ایس آئی کی مرہون منت رہی اور یہی بات آئی سی آئی اور سی آئی اے کے درمیان حریفانہ تعلق کے لیے کافی دلیل بن گئی۔

سویت یونین کے بعد امریکہ کی دلچسپی افغانستان میں بڑھتی گئی اور 2001ء میں اس نے سویت یونین کے اتباع میں اپنی افواج یہاں پر اتاریں۔ اب کے بار پاکستان بھی نشانے پر تھا اور 2004ء سے امریکی ڈرون طیارے پاکستان کی سرزمیں کو براہ راست نشانے پر لیے ۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے پاکستان کو زبردستی فرنٹ لائن سٹیٹ بنایا اور اسے نان نیٹو الائی یعنی نیٹو سے باہر کے اتحادی کا درجہ دیا۔

اس جنگ میں پاکستان کا جی ایچ کیو تک نشانے پر رہا، کور کمانڈرز تک شہید ہوئے۔ ہزاروں فوجی جوان اور سپاہی کام آئے۔ پاک فوج نے اتنے افسروں کی قربانی دی کہ دوسری جنگ عظیم میں کسی ایک ملک کا اتنا نقصان نہیں ہوا۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا۔

امریکہ پاکستان کو شک کی نگاہ سے اس لیے دیکھتا رہا ہے کہ اسے افغانستان میں مکمل فتح درکار تھی۔ جن لوگوں سے اس کی جنگ تھی ان کا تختہ تو اس نے چالیس روز سے بھی کم میں الٹ دیا تھا اور انھیں ایوانوں سے غاروں میں دھکیلا تھا۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اسے کھل کر ایجنڈا مکمل کرنا ہے۔ جب اس کا ایجنڈا دس سال بعد بھی نامکمل رہا تو وہ سارا الزام پاکستان کی آئی ایس آئی کو دینے لگا۔
ظاہر ہے آئی ایس آئی ایک خود مختار ملک کی ایجنسی ہے اور یہ اپنے ملک کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان مقابلہ کا کوئی توازن نہیں بنتا، آئی ایس آیس کا توازن خوب ہے۔ اس نے دس سال کے جی بی اور سی آئی اے کے ساتھ ایک تکون میں اپنا کردار خوبی کے ساتھ نبھایا ہے۔ سی آئی اے کی حلیف ہونے کے باوجود اس نے امریکہ سے اپنے مفادات کو کامیابی کے ساتھ بچا کر رکھا۔ کے جی بی کو شکست سے دوچار کرنے میں حصہ ڈالنے والا امریکہ براہ راست اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آیا تو proxy war کے طویل تجربے سے سیکھا ہوا سبق بروئے کار لایا گیا۔

اب امریکہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں اس کی تمام ناکامیوں کی ذمہ دار یہی آئی ایس آئی ہے۔ چالیس سال کے دوران دنیا کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ایک تکون میں کامیاب جنگ لڑنے والی آئی ایس آئی نے اپنے آپ کو کارکردگی میں سی آئی اے اور کے جی بی سے بڑھ کر ثابت کیا ہے۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here